پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر تجارت کا آئی ٹی آئی ٹرین کی بحالی کا خیر مقدم

اسلام آباد، ارنا- پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر تجارت نے تہران- استنبول- اسلام آباد ایکو کارگو ٹرین سروس کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ ایران، پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارت میں آسانی لانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

"عبدالرزاق داود" نے آج بروز منگل کو ایک ٹوئٹر پیغام میں ایکو کارگو ٹرین (آئی ٹی آئی) کی بحالی کا خیر مقدم کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تہران، استنبول، اسلام آباد کے درمیان ریل سروس منصوبے میں 9 سالوں کی رکاوٹ کے بعد، یہ ٹرین سروس 4 مارچ کو پھر سے بحال ہوگی۔

پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر تجارت نے کہا کہ ایکو کنٹینر ٹرین 12 دن تک استنبول سے اسلام آباد تک یکطرفہ سفر کرے گی اور 750 ٹن سامان لے سکے گی۔

انہوں نے ایکو ٹرین سروس کی بحالی کو نقل و حمل میں آسانی لانے سمیت ایران، ترکی اور پاکستان کے تاجروں اور کاروباری حلقوں کیلئے برآمدات اور درآمدات کے نئے راستے کا استعمال کرنے کا ایک اچھا موقع قرار دے دیا۔

واضح رہے کہ پاکستانی وزارت ریلوے کے ایک اعلی عہدیدار نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ٹرین سروس 4 مارچ کو بحال ہوگی۔

اس کے علاوہ پاکستانی وزیر ریلوے "اعظم خان سواتی" نے بھی ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ 16 مارچ کو اسلام آباد میں ایکو کارگو ٹرین کا استقبال کریں گے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ آئی ٹی آئی ریلوے ٹریک نے اکو کے پروجیکٹ کے تحت سنہ 2009 میں آزمائشی طور کام شروع کیا تھا۔ اس ٹریک کو اقوام متحدہ نے بین الاقوامی کاریڈور قرار دیا تھا اور اب تک اس ٹریک کو آزمائشی طور پراستعمال کیا جا رہا ہے۔

آئی ٹی آئی سے موسوم اس ٹرانزٹ ریلوے لائن  سے اسلام آباد استنبول یا اس کے برعکس استنبول اسلام کے درمیان سامان کی ترسیل میں زمان ومکان کے اعتبار سے کافی سہولت پیدا ہوجائے گی۔ پہلی آزمائیشی مال گاڑی اسلام آباد سے 6500 کلو میٹر کا فاصلہ 13 دن میں طے کرنے کے بعد استنبول پہنچی تھی تاہم بعد میں یہی فاصلہ ساڑھے گيارہ دنوں میں طے کیا گیا۔

آئی ٹی آئی ٹریک پر چلنے والی مال گاڑیوں ميں 40 فٹ لمبی 20 بوگيوں کی گنجائش مدنظر رکھی گئی ہے جس سے تینوں ملک پاکستان ایران اور ترکی کو بہت زيادہ فوائد حاصل ہوں گے۔

بتایا جاتا ہے کہ آئی ٹی آئی ریلوے ٹریک سے پاکستان، ایران اور ترکی کے علاوہ افغانستان، آذربائیجان، قرقیزستان، قازقستان، تاجیکستان، ترکمنستان، اور ازبکستان بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 1 =