ایران کی شام سے تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تبادلہ پر کوئی پابندی نہیں ہے

تہران، ارنا- نائب ایرانی صدر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے امور نے کہا ہے کہ ایران کی شام سے تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تبادلہ پر کوئی پابندی نہیں ہے اور ہم دیگر ملکوں سے ٹیکنالوجی ڈپلومیسی بڑھا رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "سورنا ستاری" نے آج بروز منگل کو دمشق میں ایران کی 40 کمپنیوں اور شامی ٹیکنالوجی گروہوں کے درمیان منعقدہ دوسری تجارتی اور ٹیکنالوجی نشست کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے ایران میں آئل اور گیس کے بڑے وسائل کی موجودگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے کچھ سالوں کے دوران اور ایرانی آئل کی مصنوعات پر لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے ہم نے آئل اور گیس کی روایتی معیشت کے ساتھ ساتھ نان آئل مصنوعات اور نئی معیشت کے نظام کا بند و بست کیا گیا۔

انہوں نے ایران میں علم پر مبنی کمپنیوں کی اچھی کارکردگی اور جوان ماہرین کی صلاحیتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی علم پر مبنی کمپنیوں کی فروخت 12 بلین ڈالر سے زیادہ ہوگئی ہے؛ یہ معیشت ایران کی موجودہ اور روایتی منڈیوں تک جا پہنچی ہے۔

ستاری نے کہا کہ تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل معیشت میں نمایاں ترقی ہوئی ہے اور ہمیں امید ہے کہ آج کا اجلاس دونوں ممالک کے مابین تکنیکی اور سائنسی تبادلہ کو بڑھانے کیلئے مددگار ثابت ہوگا؛ شام کیساتھ تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تبادلے پر ایران کی کوئی پابندی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی ڈپلومیسی کا تصور دراصل سفارت کاری کی ایک نئی شکل ہے اور ہم نے یہ تصور دنیا میں اپنی تکنیکی مدد کی وجہ سے تشکیل دیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ اجلاس، ایرانی اور شام کے تکنیکی ماہرین کے مابین تعاون میں مزید اضافے کا باعث ہوگا۔

واضح رہے کہ ایرانی علم پر مبنی کمپنیوں اور شامی ٹیکنالوجی گروپوں کا دوسرا اجلاس آج بروز منگل کو انعقاد کیا گیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 9 =