27 فروری، 2021 5:48 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 84245156
0 Persons
عراق میں حالیہ حملے اور واقعات مشکوک ہیں: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ عراق میں حالیہ حملے اور واقعات مشکوک ہیں اور ان کی ایران اور عراق کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے اور عراقی امن اور سلامتی میں خلل ڈالنے کے مقصد سے منصوبہ بندی کرنے کا امکان ہے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے آج بروز ہفتے کو ایران کے دورے پر آئے ہوئے اپنے عراقی ہم منصب "فواد حسین" کیساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سرحدی شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر ظریف نے عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں عراقی فورسز پر حملے سے متعلق امریکی اقدام کی مذمت کی اور اسے عراق کی قومی سالیمت اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ عراق میں حالیہ حملے اور واقعات مشکوک ہیں اور ان کی ایران اور عراق کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے اور عراقی امن اور سلامتی میں خلل ڈالنے کے مقصد سے منصوبہ بندی کرنے کا امکان ہے۔

ظریف نے عراقی حکومت کیجانب سے اس حملے میں ملوث افراد کی شناخت پر ضروری اقدمات اٹھانے پر زور دیا۔

انہوں نے تمرچین سرحد میں ایرانی آئل ٹینکروں کے حالیہ مسائل پر تبصرہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ عراقی حکام کے تعاون سے آئل ٹینکروں کی آمد و رفت کے مسائل حل ہوجائیں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے شلمچہ- بصرہ ریلوے لائن کے قیام کی تیاریوں پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے تجارتی تعلقات کی توسیع میں تعمیری قرار دے دیا اور اس منصوبے پر جلد از جلد عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

دراین اثنا عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے باہمی تعلقات کے فروغ پر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے عراق میں موجود ایرانی مالی وسائل تک ایرانی حکومت کی رسائی میں ہونے والی پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے اس عمل میں مزید تیزی لانے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھانے پر تیاری کا اظہار کرلیا۔

فواد حسین نے کہا کہ ہم ہونے والے واقعات اور حلموں کا ایران- عراق تعلقات پر اثرات مرتب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اس اجلاس میں دونوں فریقین نے تازہ ترین علاقائی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha