ایرانی اور پاکستانی مفکرین کا اقبال اور فردوسی پر وبینار کا انعقاد

اسلام آباد، ارنا- پاکستان میں اقبال اور فردوسی کے نقطہ نظر سے معاشرتی تبدیلیوں اور اصلاحات پر سعدی فاؤنڈیشن کے سربراہ سمیت ممتاز ایرانی اور پاکستانی مفکرین، ثقافتی عہدیداروں اور یورنیورسٹی کے پروفیسرز کی شرکت سے ایک دو روزہ وبینار کا انعقاد کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق، لاہور کی ایل سی ویمن یونیورسٹی کے شعبہ برائے مطالعہ فردوسی اور ایران، سعدی فاؤنڈیشن اور خانہ فرہنگ ایران کے تعاون سے "فردوسی اور اقبال لاہوری کے نقطہ نظر سے معاشرتی تبدیلیوں اور اصلاحات" پر ایک وبینار کا پاکستان، عراق، ازبکستان، ایران اور ترکی کے ممتاز ادبی اور ثقافتی شخصیات کی شرکت سے انعقاد کیا گیا۔

اس وبینار کے پہلے دن میں سعدی فاونڈیشن کے سربراہ "غلامعلی حداد عادل"، علامہ طباطبائی یورنیورسٹی کے پروفیسر "رضا مراد صحرائی"، اسلام آباد میں تعینات ایرانی ثقافتی قونصلر "احسان خزاعی"، ترکی کی اتاترک یونیورسٹی کے پروفیسر"نعمت یلدیریم" نے حصہ لیا تھا۔

اس کے علاوہ عراق کی صلاح الدین یونیورسٹی کے پروفیسر "جہاد لشگری"، ازبکستان کی تاشقند یورنیورسٹی کے پروفیسر برائے مشرقی امور "دلفوزا احمدوا"، لاہور کی ایل سی ویمن یورنیورسٹی کے شعبے فارسی زبان کی خاتون سربراہ "فلیحا زاہرا کاظمی"، پنجاب یورنیورسٹی کے نائب سربراہ "سلیم مظہر" بھی اس وبینار میں حصہ لینے والے دیگر اراکین تھے۔

وبینا کے دوسرے دن میں بھی پاکستان میں ایرانی خانہ فرہنگ کے سربراہ "جعفر روناس"، علامہ اقبال لاہوری کے پوتے "محمد اقبال صلاح الدین"، سرینگر میں واقع کشمیر یونیورسٹی کے شعبے فارسی کے سربراہ "جہانگیر اقبال"، ریجنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انفارمیشن سنٹر کے ممبر اور سعدی فاؤنڈیشن کے شعبہ برای پاکستانی مطالعے کی خاتون ماہر "الہام حدادی" کی شرکت سے انعقاد کیا گیا۔

اس وبینار کے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ فردوسی کی کتاب شاہنامہ قیمتی علم و نظریات کے زیور سے آراستہ ہے؛ یہ ایک ایسی کہانی کی تفصیل ہے جو ایک سحر انگیز اور دلچسب زبان میں کہی گئی ہے۔

 اس موقع پر پاکستانی مفکرین نے شاہنامہ ہیروز کی اخلاقی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فردوسی کے ہیرو مستقبل پر حکمرانی کرتے ہیں کیونکہ وہ انصاف اور آزادی کے مبلغ ، لوگوں کے حقوق کے محافظ، اصلاح پسند اور معاشرتی ترقی کے حامی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اقبال نے فردوسی کے کردار کے زیر اثر اپنے بہت سارے اشعار تحریر کیے ہیں۔

اس موقع پر سعدی فاونڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر "غلامعلی حداد عادل" نے علامہ اقبال لاہوری اور ابوالقاسم فردوسی کے مابین مماثلتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں قوموں کی بحالی اور ان کے اندر شور پیدا کرنے کیلئے شاعری کرتے تھے۔

 انہوں نے کہا کہ حکیم فردوسی ایران کے قومی تشخص کی گمشدگی اور بھول جانے پر بہت پریشان تھے، لہذا انہوں نے ایرانی قوم کی بحالی کے لئے شاہنامہ کی کتاب کو لکھا؛ ان کا ماننا تھا کہ تمام قومیں ایک قومی اور اسلامی شناخت رکھ سکتی ہیں اور اس تناظر سے فردوسی نے فارسی زبان اور قدیم ایرانی تاریخ کو زندہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ علامہ اقبال لاہوری نے فروسی کے عصر سے 900 سال گرزنے کے بعد مسلمانوں کیلئے وہی کام کیا جو فردوسی نے ایرانی قوم کو بیدار کرنے کیلئے کیا تھا۔

حداد عادل نے کہا کہ اقبال شاعر ہونے سے پہلے ایک عظیم مفکر اور مصلح تھے اور شاعری ان کے لئے تعمیری افکار پھیلانے کا ایک مفید ذریعہ تھا؛ انہوں نے ایرانیوں کے درمیان علامہ اقبال کے عظیم درجے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال لاہوری نے آزادی کے جذبے کو زندہ کرنے اور سامراجیت کیخلاف لڑنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

 منعقدہ وبینار میں حصہ لینے والے دیگر مقررین نے بھی علامہ اقبال اور فردوسی کی شخصیات اور ان کے اہم کاموں پر روشنی ڈالی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 1 =