ایرانی صدر نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے "آبیک-ورامین" ہائی وے کا افتتاح کیا

تہران، ارنا- ایرانی صدر مملکت نے آج بروز جمعرات کو ایک ویڈیو کانفرنس کے ذریعے "آبیک- ورامین" ہائی وے جسے "غدیر" ہائی وے پکارا جاتا ہے، کا افتتاح کیا۔

رپورٹ کے مطابق، 158 کلومیٹر طویل غدیر ہائی وے کے منصوبے کا 6 لین کی شکل میں 2015 میں شروع ہوا تھا۔

یہ بہت بڑا منصوبہ حکومت کے 30 فیصد اور سرمایہ کاروں کے 70 فیصد کی شراکت سے 3،400 ارب تومان (ایرانی قومی کرنسی) اور روزانہ 7،000 ارب تومان کی کریڈٹ کیساتھ عمل میں لایا گیا ہے۔

غدیر ہائی وے راستے میں یہ چار صوبوں قزوین، البرز، مرکزی اور تہران سے گزرتی ہے اور پھر وارمین کے اردگرد، "قم- گرمسار" ہائی وے میں داخل ہوتی ہے۔

اس شاہراہ کی تعمیر کے دوران، 49 بڑے پل، 690 چھوٹے پل، 2 سرنگیں، 12 چوراہے، 7 ایکسچینج اور 32 پارکنگ لاٹ تعمیر ہوچکے ہیں۔

اس منصوبے کا مقصد مشرق- مغرب اور شمال -جنوب جنوب فری وے کوریڈورز کا ایک حصہ مکمل کرنا ہے، جس سے راستہ مختصر ہوگا اور ملک کے شمال مغربی علاقوں اور ملک کے شمال مشرقی علاقوں کے درمیان جانے میں آسانی ہوگی۔

غدیر فری وے، سیاحت کی صنعت کی ترقی اور قومی معاشی خوشحالی کے علاوہ، ہمسایہ ممالک کی توجہ کیساتھ بین الاقوامی شعبے میں سامان کی نقل و حمل پر بھی اثر پڑے گا۔

واضح رہے کہ ایرانی شاہراہوں کی لمبائی گیارہویں حکومت کے دوران 12 ہزار 500 کلومیٹر تک پہنچ گئی اور بارہویں حکومت کے اختتام تک اس میں کم سے کم 8 ہزار کلومیٹر کا اضافہ ہوکر 20 ہزار کلومیٹر تک پہنچ جائے گی جس میں 50 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha