جب امریکہ عملی اقدامات اٹھائے تب ایران جوہری وعدوں کو پورا نبھائے گا

تہران، ارنا- جینوا میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے مغربی حکام کے عدم منطق پر مبنی بیانات کے رد عمل میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران صرف امریکہ کیجانب سے عملی اقدامات اٹھانے کی صورت میں اپنے جوہری وعدوں کو پورا نبھائے گا۔

ان خیالات کا اظہار "اسماعیل بقائی ہامانہ" نے اقوام متحدہ میں تخیف اسلحہ سے متعلق منعقدہ ایک اجلاس کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری معاہدے سے امریکی غیرقانونی علیحدگی اور اس کے نتیجے میں ایران پر بہت سارے نقصانات پہنچنے کے بعد وہ ایران سے اپنے جوہری وعدوں کو پورا نبھانے کی توقع رکھتے ہیں حالانکہ یہ امریکہ ہے جس نے بین الاقوامی قوانین کیخلاف ورزی کی ہے اور جب وہ عملی اقدامات اٹھائے تب ایران اپنے جوہری وعدوں پر پورا اترے گا۔

بقائی ہامانہ نے امریکی وزیر خارجہ اور کچھ یورپی حکام کیجانب سے ایران سے جوہری وعدوں پر پوری طرح عمل کرنے کی درخواست کو مضحکہ خیز قرار دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے معاہدہ نہیں چھوڑا، دوسروں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کرنے پر مجبور نہیں کیا، اپنے وعدے کو پورا کرنے کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور طاقت کے ذریعے اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹا ہے؛ یہ امریکہ ہے جو ویسے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی مجرمانہ پالیسی پر عمل پیراہوتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کیخلاف ورزی کر رہا ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" کے مطابق، امریکہ کو بطور قانون کیخلاف ورزی کرنے والے کے صحیح اقدامات اٹھانے ہوں گے، جوہری معاہدے پر قائم رہنا ہوگا اور اپنے جوہری وعدوں پر موثر طریقے سے عمل کرنا ہوگا پھر ایران پچھلے کی صورتحال میں واپس آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے شکار کے طور پر جو صدام حسین کے کیمیائی ہتھیاروں کے زخموں کا شکار ہیں، اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس طرح کے ہتھیاروں کے استعمال یا استعمال کے خطرے کو روکنے کی واحد ضمانت ان جیسے ہتھیار رکھنے والے ممالک کیجانب سے ان کی مکمل تباہی ہے۔

ایرانی سفیر نے صیہونی حکومت کی حمایت کرنے اور اسے جوہری ہتھیاروں سے لیس کرنے اور اس حوالے سے کسی اقدام کو ناکام بنانے کے لئے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 9 =