ایران اور افغانستان کی سب سے بڑی مشترکہ ونڈ ٹنل کا نفاذ ہوگا

تہران، ارنا- نائب ایرانی وزیر توانائی نے ایران اور افغانستان کی سرحد میں دنیا کی سب سے بڑی ونڈ ٹنل کے قیام کے منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال شمسی کے اختتام تک اس منصوبے کے 25 میگاواٹ کا حصہ مکمل ہوگا اور باقی 25 میگاواٹ بھی مارچ میں مکمل ہوجائے گا۔

"محمد ساتکین" نے پیر کے روز  گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 50 میگاواٹ کی صلاحیت کے حامل اس پاور پلانٹ کی تعمیر سے سڑکوں کی تعمیر، ایک مضبوط پریشر لائن کی تشکیل، سب اسٹیشنوں، ٹیلی مواصلات اور انٹرنیٹ جیسے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا باعث بنی ہے۔

انہوں نے اس علاقے میں نئے ہوائی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں سرمایہ کاروں کی دلچسبی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے علاوہ ایک اور 50 میگاواٹ پروجیکٹ کو 4.2 میگا واٹ ٹربائنوں کا استعمال کرتے ہوئے تیار کیا جارہا ہے جس میں سے کچھ حصہ اس شمسی سال کے آخر میں اور باقی دیگر حصہ مارچ کے آغاز تک مکمل ہوجائے گا۔

نائب ایرانی وزیر توانائی نے کہا کہ ایران اور افغانستان کی سرحد پر واقع دنیا میں سب سے زیادہ تیز ہوا چلنے والا ایک علاقے کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں 30 ہزار میگاواٹ کی گنجائش ہے اور اس کی 25 ہزار میگاواٹ افغانستان کی سرزمین اور 5 ہزار میگاواٹ ایران کی سرزمین میں ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے ایرانی تنظیم برائے قابل تجدید توانائی کے سربراہ نے کہا تھا کہ منصوبہ بندیوں کے مطابق، رواں شمسی سال کے آخر تک ملک کی ونڈ انرجی کی صلاحیت میں 30 میگاواٹ کا اضافہ ہوگا؛ یہ زابل پاور پلانٹ کی متوقع صلاحیت کا 60 فیصد ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 3 =