"ہیومن رائٹس کونسل کا فیسٹیول" انسانیت کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں ڈالتا ہے

تہران، ارنا -  ایرانی عدلیہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے سربراہ نے انسانی حقوق کے معاملات کے سیاسی نقطہ نظر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک آزاد اقوام کی کوششوں سے انسانی حقوق کے گلے سے آمرانہ حکومتوں کے پاؤں نہیں ہٹ جائے تو یہ نشستیں انسانیت کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں ڈال سکتی ہیں۔

یہ بات علی باقری کنی نے پیر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 46 ویں اجلاس کے آغاز کا حوالہ دیتے ہوئے ٹوئیٹر میں اپنے ذاتی پیج پر لکھی۔

انہوں نے کہا کہ آج سے جنیوا میں ہیومن رائٹس کونسل کا فیسٹیول شروع ہورہا ہے جبکہ بے گھر یمنی اور فلسطینی خواتین اور بچوں کو ظلم و ستم کے خاتمے کی کوئی امید نہیں ہے۔

انسانی حقوق کے مسائل کے سیاسی نقطہ نظر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب تک آزاد اقوام کی کوششوں سے انسانی حقوق کے گلے سے آمرانہ حکومتوں کے پاؤں نہیں ہٹ جائے تو یہ فیسٹیول انسانیت کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں ڈال سکتا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ، انسانی حقوق کونسل کا 46 واں اجلاس آج  22 فروری سے 23 مارچ تک  منعقد ہوگا ، جس میں بچوں کے حقوق، کسی ہنگامی صورتحال میں صحت کا حق ،  ویکسین تک منصفانہ اور یکساں انداز میں رسائی ،  نسلی امتیاز کے خلاف جنگ ، کھانے تک رسائی کا حق ، ماحولیات کا حق ، مناسب رہائش کا حق اور معذور افراد کے حقوق کا فروغ جیسے موضوعات پر جائزہ لیا جائے گا۔

کووڈ 19 کی وبا کے پھیلنے کی وجہ سے ، یہ فیسٹیول ویڈیو کانفرنسنگ کی شکل میں آن لائن منعقد ہوگا۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 2 =