ایرانی ایٹمی سرگرمیوں کی دیانتداری کے بارے میں ایران اور آئی اے ای اے کا مشترکہ بیان

لندن، ارنا - بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) اور ایران نے ایران میں IAEA کے انسپکٹرز کی ضروری سرگرمیوں کے تسلسل کے بارے میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔

عالمی توانائی ایجنسی اور ایران نے اتوار کے روز آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کے  دورے تہران کے اختتام پر ایران میں IAEA کے انسپکٹرز کی ضروری سرگرمیوں کے تسلسل پر اتفاق کیا۔

اس بیان میں آیا ہے کہ آئی اے ای اے اور ایران کی جوہری توانائی تنظیم نے تہران میں 26 اگست 2020 کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے ایران کی جوہری توانائی تنظیم نے ایرانی پارلیمنٹ کی قرار داد' پابندیوں کو ختم کرنے اور ایرانی قوم کی مفادات کیلیے اسٹرٹیجک اقدام کا قانون"  کے مطابق ،  بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو اعلان کیا ہے کہ ایران 23 فروری کو جوہری معاہدے کے تحت رضاکارانہ اقدامات کا خاتمہ کرے گا۔

اسی مناسبت سے ایران میں ایجنسی کی نگرانی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے  اس بیان پر اتفاق کیا گیا:

1۔  ایران ماضی کی طرح عالمی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ بغیر کسی پابندی کے حفاظتی معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھے گا۔

2- ایک عارضی دو طرفہ تکنیکی معاہدے کی بنیاد پر جو ایرانی قانون کے مطابق ہے ،عالمی ایجنسی 3 ماہ (تکنیکی فہرست کے مطابق) کے لئے ضروری نگرانی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔

3. طے پانے والے معاہدے کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ اپنے مطلوبہ مقصد کے لئے کام کرتا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی جوہری ادارے کے سربراہ "رافائل گروسی" ہفتہ کے روز ایران کے دورے پر پہنچ گئے جہاں انہوں نے ایرانی جوہری ادارے کے سربراہ سے جوہری معاہدے کی تازہ ترین تبدیلیوں اور ایرانی جوہری وعدوں میں کمی لانے سے متعلق بات چیت کی۔

صالحی نے اس سے پہلے عالمی جوہری ادارے کے دورہ ایران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کو روکنے سے متعلق ایرانی پارلیمنٹ میں منظور کیے گئے قانون کے آرٹیکل 6 کے نفاذ اور اس حوالے سے آئی اے ای اے کے نام پر ایران کے خط کے بعد گروسی نے جلدی سے دورہ ایران کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ادارے نے آئی اے ای اے سے تعاون کے سلسلے میں اس دورے سے اتفاق کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ ایرانی پارلیمنٹ میں پابندیوں کی منسوخی سے متعلق اسٹریٹجک اقدامات اٹھانے کا قانون ہماری قوم کے مفادات کی فراہمی کے سلسلے میں ہے اور دوسرے فریق نے بھی پابندیوں کی منسوخی سے متعلق کوئی اقدام نہیں اٹھایا ہے؛ تو ہم 23 فروری کو سیف گارڈز سے پرے جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کا خاتمہ ہوگا۔

صالحی نے کہا کہ تا ہم گروسی سے ملاقات کے دوران، دونوں فریقین کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال ہوگا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ عالمی جوہری ادارے کے سربراہ نے صالحی سمیت ایرانی وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" سے ملاقات کی ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURD

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha