امریکی یکطرفہ اقدامات کی روک تھام کا واحد راستہ ممالک کی یکجہتی اور اتحاد ہے: صدر روحانی

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے اپنے ترک ہم منصب کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، امریکی پابندیوں کے سامنے ترکی کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے یکطرفہ اقدامات کیخلاف مقابلہ کرنے کا واحد راستہ پابندیوں کا شکار ممالک کے درمیان یکجہتی اور اتحاد ہے۔

ڈاکٹر "حسن روحانی" نے اتوار کے روز "رجب طیب اردگان" سے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے خطے کے دو اہم ملک کی حیثیت سے ایران اور ترکی کے درمیان تعلقات کو اچھے قرار دیتے ہوئے مشترکہ خطرات کیخلاف مقابلہ کرنے اور خطی مسائل کے حل کیلئے تہران- انقرہ کے درمیان تعاون کے فروغ پر زور دیا۔

صدر روحانی نے ترجیحی تجارت کے معاہدے کے اصلاح سے دونوں ملکوں کے درمیان معاشی اور اقتصادی تعلقات میں اضافے سمیت ایران- ترکی کی تعاون کی اعلی کونسل کے چھٹے اجلاس میں طے پانے والے معاہدوں کے جلد از جلد نفاذ پر زور دیا اور کہا کہ ایران، مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 28 ویں اجلاس کی میزبانی پر تیار ہے۔

انہوں نے امریکی سابق انتظامیہ کے غیر قانونی اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف پابندیوں کی منسوخی ایک قانونی درخواست ہے جس پر ہم نے بارہا زور دیا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران، پابندیوں کی منسوخی سے اپنے جوہری وعدوں پر پورا اترے گا؛ ہمارا موقف عملی اقدام اٹھانے کے مقابلے میں عملی اقدام اٹھانا ہے۔

صدر روحانی نے ایران کیجانب سے شامی بحران کے حل کیلئے پُرامن طریقوں کی حمایت پر تبصرہ کرتے ہوئے آستانہ امن عمل کے فریم ورک کے اندر شام، ایران، اور ترکی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا جو شامی مسائل کے حل سمیت شامی تارکین وطن کو اپنی سرزمین میں واپسی اور شام کی آئین کو مرتب کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

انہوں نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان کاراباخ بحران اور دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا موقف تصفیہ طلب مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے۔

صدر روحانی نے اس سلسلے میں علاقائی تعاون کی تجویز جس میں ایران، روس، ترکی، آذربائیجان اور آرمینیا شامل ہیں، کا خیر مفدم کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے علاقے کے مفادات کی فراہمی ہوگی اور ایران اس حوالے سے تعاون پر تیار ہے۔

دراین اثنا ترک صدر نے باہمی تعلقات کے فروغ، مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس کا جلد انعقاد، ترجیحی تجارت کے فریم ورک کے اندر معاشی اور تجارتی تعلقات میں اضافے سمیت علاقے میں قیام امن و سلامتی کیلئے تعمیری مذاکرات اور تعاون پر زور دیا۔

انہوں نے مسائل کے حل اور امریکی پابندیوں کی منسوخی کیلئے مذاکرات اور سفارتی طریقہ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha