23فروری کو ایران کی کارروائی کا مطلب جوہری معاہدے سے دستبرداری نہیں ہے: ایرانی عہدیدار

تہران، ارنا – نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے کہا ہے کہ کوئی جوہری معاہدےمیں ایران کی خیر خواہی پر سوال نہیں اٹھا سکتا ہے اور اس بات پر زور دیا:کہ 23مارچ کو ایران کے اقدام کا مطلب جوہری معاہدے سے دستبرداری نہیں ہے۔

یہ بات سید عباس عراقچی نے گزشتہ رات جوہری معاہدے پر ایران کی ذمہ داریوں کو کم کرنے کی آخری تاریخ کے موقع پر اس معاہدے کی تازہ ترین صورتحال کے جائزہ لینے کے لئے ایک براہ راست ٹی وی پروگرام میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ ایجنسی کی 15 رپورٹیں جوہری معاہدے میں ایران کی مکمل دیانتداری کی تصدیق کرتی ہیں جو یہ اس دعوے کیلیے ایک دستاویزی اور ناقابل تردید ثبوت ہے۔

 اعلی ایرانی سفارتکار نے صہیونی ریاست ہمیشہ جوہری معاہدے کی مخالفت کرتی رہی ہے اور خطے میں دوسرے ممالک بھی موجود تھے جس معاہدے کی مخالفت کرتے تھے۔ بائیڈن نے 5 + 1 کی شکل میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے اپنی تیاری کا اعلان کیا اور ایسا لگتا ہے کہ وہ ابھی بھی اپنے اندرونی تناؤ پر قابو نہیں پاسکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو بائیڈن نے جمعہ کی رات کہا تھا کہ ہم 5 + 1 کی شکل میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے واپس آئیں گے۔ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ان چیزوں کو زیادہ سے زیادہ دباؤ  کے تحت قبول نہیں کیا ہے اب مذاکرات کے ذریعے قبول کریں گے قبول کریں گے۔

عراقچی نے کہا کہ اگر ہم امریکہ کے ان غیر قانونی مطالبات پر عمل کرنا چاہتے تھے تو ہم ٹرمپ کے دوران ایسا کرتے تھے ۔ ٹرمپ صرف ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ ایک یادگار تصویر لینا چاہتے تھے اور ہمارے ساتھ ایک نئے معاہدے پر دستخط کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ہم نے قبول نہیں کی اور اب بھی قبول نہیں کریں گے۔ اگر وہ جوہری معاہدے کو چاہتے ہیں قبول کرنا چاہتے ہیں تو غیر مشروط طور پر قبول کریں۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha