20 فروری، 2021 3:41 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 84236303
0 Persons
عالمی جوہری ادارے کے سربراہ کے حالیہ دورہ ایران کے مقاصد

تہران، ارنا- عالمی جوہری ادارے کے سربراہ کا دوسرا دورہ ایران، آج ایک ایسی صورتحال میں ہور ہا ہے جب ایران کیجانب سے ایڈیشنل پروٹوکول اور آئی اے ای اے کی نگرانی کے خاتمہ کی ڈیڈ لائن (23 فروری) ختم ہونے کے قریب ہے۔

تفصیلات کے مطابق، رافائل گروسی نے آگست مہینے کے دوران، اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کی باضابطہ دعوت سے ایران کا پہلا دورہ کیا اور اس دورے کا مقصد آئی اے ای اے اور ایران کے درمیان تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے کا تھا۔

ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے جوہری ادارے کے سربراہ نے آج ایک حساس صورتحال اور شاید ایک خاص مشن کیلئے ایران کا دورہ کیا ہے؛ ایک ایسے سربراہ جو غیرجانبداری، آزادی اور پیشہ ورانہ مہارت کو عالمی جوہری ادارے کے بنیادی اصول بنانے کیلئے پُر عزم ہیں۔

 ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب " کاظم غریب آبادی" اس سے پہلے نے کہا تھا کہ یہ دورہ، عالمی جوہری ادارے کے سربراہ کی درخواست پر کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد 15 فروری کو ایران کیجانب سے عالمی جوہری ادارے کو لکھے گئے خط اور ایرانی پارلیمنٹ میں پابندیوں کی منسوخی سے متعلق منظور کیے گئے قانون کے آرٹیکل 6 کے نفاذ سمیت نئی تبدیلیوں کے پیش نظر ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون سے متعلق تکنیکی گفتگو کرنے کا ہے۔

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا ارادہ ہے کہ وہ پارلمیمنٹ میں پابندیوں کی منسوخی سے متعلق اسٹرٹیجک اقدامات اٹھانے کے فریم ورک کے اندر، 23 فروری کو جوہری معاہدے کے تحت رضاکارانہ اقدامات کا خاتمہ دے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ نے 11 دسمبر کو ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت ایرانی حکومت کا فرض ہے کہ اگر امریکی پابندیاں جاری رہیں تو وہ آئی اے ای اے کیساتھ تعاون کو محدود کرے اور جوہری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو کم کرنے کیلئے مزید اقدامات اٹھائے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت، جوہری معاہدے کے آرٹیکل 36 اور 37 کے مطابق، اس قانون کے نفاذ کے 2 ماہ کے اندر جوہری معاہدے کے تحت ایڈیشنل پروٹوکول سے پرے نگرانی کی رسائی کو معطل کرنے کی پابند ہے۔

امریکی نئی انتظامیہ نے اس پہلے ایران کیخلاف پابندیوں کی منسوخی اور جوہری معاہدے میں شمولیت کا وعدہ دیا تھا تا ہم اب اس نے ان اقدامات کو اٹھانے کیلئے ایران کیجانب سے اپنے جوہری وعدوں پر عمل کرنے کا شرط لگایا ہے۔

اور یہ ایک ایسی صورتحال میں ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران کا عقیدہ ہے کہ امریکہ نے جوہری معاہدے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کیخلاف ورزی کی ہے اور ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ جب پابندیوں کا خاتمہ ہوجائے اور امریکہ جوہری معاہدے میں از سر نو شامل ہوجائے تب ایران، اپنے جوہری وعدوں پر پورا اترے گا۔

ایسا لگتا ہے کہ گروسی کے حالیہ دورہ ایران کے مقاصد میں سے ایک، ایران کیجانب سے ڈیڈ لائن کے اعلان کے باوجود ایران میں آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کی نگرانی کا کام جاری رکھنے پر ایرانی حکام سے مذاکرات کرنے کا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 10 =