جوہری معاہدے کے تحفظ کا واحد راستہ امریکی پابندیوں کا خاتمہ ہے: صدر روحانی

تہران، ارنا- ایرانی صدر مملکت نے جرمن صدراعظم کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران کہا ہے کہ اگر یورپ، واقعی ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کا خواہاں ہے تو اسے عملی طور پر اقدامات اٹھانے ہوں گے اور اس معاہدے کے تحفظ کا واحد راستہ، انسانیت کیخلاف امریکی پابندیوں کا خاتمہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن روحانی" نے بدھ کے روز "انگلا مرکل" کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے ایران جوہری معاہدے میں نئے موضاعات کی شمولیت کو غیر ممکن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے تصدیق کیے گئے ایران جوہری معاہدہ، ایران اور دنیا کے 6 بڑے ملکوں کے درمیان طویل عرصے تک مذاکرات کا نتیجہ ہے اور اس معاہدے کا واضح فریم ورک ہے جس کو بدلنے کا امکان ہی نہیں ہے۔

صدر روحانی نے اس معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد جوہری وعدوں پر عمل کرنے سے متعلق یورپ کی کارکردگی کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یورپ، واقعی ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کا خواہاں ہے تو اسے عملی طور پر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کیخلاف پابندیوں کا تسلسل اور دوسرے فریقین کیجانب سے اپنے جوہری وعدوں کو نہ نبھانے سے جوہری معاہدے کا نفاذ قابل قبول نہیں ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اس معاہدے کے تحفظ کا واحد راستہ ایران کیخلاف امریکی غیرقانونی پابندیوں کا خاتمہ اور پھر اس کے بعد اس معاہدے میں امریکی واپسی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ میں منظور کیے گئے قانون کے مطابق، ایرانی حکومت کو پابندیوں کی عدم منسوخی اور دیگر فریقین کیجانب سے اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے کے مقابلے میں اپنے جوہری وعدوں میں مزید کمی لانی چاہیے تا ہم اگر پابندیوں کا خاتمہ ہوجائے تو ہم بھی بھر پور طریقے سے اپنے جوہری وعدوں پر عمل کریں گے۔

صدر روحانی نے خطے میں امن و استحکام کی اہمیت اور غیر ملکیوں کی موجودگی اور دہشت گردی کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے دہشت گردی کے پھیلاؤ کو خطے کے ماضی، حال اور مستقبل کا سب سے اہم چیلنج قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ امن اور سلامتی کی فراہمی اور دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے کا واحد راستہ، تمام ملکوں کے درمیان تعمیری تعاون ہے۔

صدر روحانی نے خطے میں قیام امن سے متعلق ایران کی پیش کردہ تجویز ہرمز امن منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے یمنی بحران کے حل کی ضرورت اور اس ملک میں انسانی تباہی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطی مسائل صرف علاقائی ملکوں کے درمیان تعاون کے ذریعے حل ہوں گے۔

انہوں نے ایران اور جرمنی کے درمیان تاریخی تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے باہمی تعلقات بالخصوص معاشی تعلقات کے فروغ پر زور دیا۔

ایرانی صدر نے کورونا کی وجہ سے رونما ہونے والے مشکلات اور یورپ میں نئی کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بحران پر قابو پانے کیلئے تجربات کا تبادلہ پر زور دیا۔

در این اثنا جرمن صدر اعظم نے بطور ایک بین الاقوامی معاہدے کے ایران جوہری معادے کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مذاکرات اور تعاون کے ذریعے مسائل کے حل کا مطالبہ کیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha