گروسی سے سیف گارڈ سے پرے نگرانی کے خاتمے کے انتظامات پر مذاکرات کریں گے

تہران، ارنا- ایرانی جوہری ادارے کے ترجمان نے کہا ہے کہ آئی اے ای اے کے سربراہ کے مستقبل دورہ ایران کے دوران، مذاکرات کے محور، تکنیکی موضوعات سمیت ایڈیشنل پروٹوکل، رضاکارانہ اقدامات اور سیف گارڈ سے پرے نگرانی کے خاتمہ کے انتظامات ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "بہروز کمالوندی" نے آج بروز بدھ کو گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی جوہری ادارے کے سربراہ "رافائل گروسی"، 20 فروری کو ایران کے دورے پر پہنچیں گے اور 21 فروری میں ایرانی جوہری ادارے کے سربراہ اور دیگرعہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گے۔

کمالوندی کا کہنا ہے کہ آئی اے ای اے کے سربراہ کے دورہ ایران کے دوران، مذاکرات کے محور تکنیکی موضوعات سمیت ایڈیشنل پروٹوکل، رضاکارانہ اقدامات اور سیف گارڈ سے پرے نگرانی کے خاتمہ کے انتظامات ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے ویانا میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے کہا تھا  کہ یہ دورہ، عالمی جوہری ادارے کے سربراہ کی درخواست پر کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد 15 فروری کو ایران کیجانب سے عالمی جوہری ادارے کو لکھے گئے خط اور ایرانی پارلیمنٹ میں پابندیوں کی منسوخی سے متعلق منظور کیے گئے قانون کے آرٹیکل 6 کے نفاذ سمیت نئی تبدیلیوں کے پیش نظر ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون سے متعلق تکنیکی گفتگو کرنے کا ہے۔

خیال رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا ارادہ ہے کہ وہ پارلمیمنٹ میں پابندیوں کی منسوخی سے متعلق اسٹرٹیجک اقدامات اٹھانے کے فریم ورک کے اندر، 23 فروری کو جوہری معاہدے کے تحت رضاکارانہ اقدامات کا خاتمہ دے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ نے 11 دسمبر کو ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت ایرانی حکومت کا فرض ہے کہ اگر امریکی پابندیاں جاری رہیں تو ، آئی اے ای اے کیساتھ تعاون کو محدود کرے اور جوہری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو کم کرنے کیلئے مزید اقدامات اٹھائے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت، جوہری معاہدے کے آرٹیکل 36 اور 37 کے مطابق، اس قانون کے نفاذ کے 2 ماہ کے اندر جوہری معاہدے کے تحت ایڈیشنل پروٹوکول سے آگے نگرانی کی رسائی کو معطل کرنے کی پابند ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 9 =