ایران، روس اور ترکی کا ادلب معاہدوں کے نفاذ پر زور

ماسکو، ارنا۔ روسی شہر سوچی میں منعقدہ آستانہ امن عمل کے 15 ویں اجلاس کے اختتام میں جاری کردہ بیان میں ایران، روس اور ترکی نے علاقے ادلب میں عسگری پسندوں کی تقویت پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ادلب معاہدوں کے نفاذ پر زور دیا۔

تفصیلات کے مطابق، بدھ کے روز جاری کردہ اس بیان میں ایران، روس اور ترکی نے شام کی تیل کی آمدنی پر قبضے کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ وسائل شامی حکومت کے ہیں۔

بیان میں تینوں ممالک نے شام کی آزادی، خودمختاری اور قومی سالمیت کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے شام سے متعلق اقوام متحدہ کے اصولوں پر عمل پیراہونے کی ضرورت اور ان کا احترام پر زور دیا۔

بیان میں ایران، روس اور ترکی نے کہا ہے کہ شامی بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے؛ انہوں نے شامی مسئلے کے حل کیلئے شام کی قیادت اور اقوام متحدہ کی قرارداد 2254 کے فریم ورک کے اندر ایک سیاسی پائیدار حل نکالنے اور اس کے نفاذ پر زور دیا۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ شامی آئین ساز کمیٹی، بغیر کسی بیرونی مداخلت اور ٹائم فورس کے سرگرمیاں جاری رکھے۔

اس کے علاوہ، ایران، روس اور ترکی نے شام کیخلاف ناجائر صہیونی ریاست کے حملوں کے خاتمہ کا مطالبہ کیا اور ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کیخلاف ورزی اور علاقائی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔

انہوں نے شام میں ابتر انسانی صورتحال پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کورونا وبا پھیلنے کے دوران، شام کیخلاف ہر کسی قسم کی یکطرفہ پابندیوں کی مذمت کی۔

اس کے علاوہ رواں عیسوی سال کے اوسط میں قازقستان کے شہر نور سلطان میں آستانہ امن عمل کے اگلے اجلاس کے انعقاد سے اتفاق کیا گیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 9 =