16 فروری، 2021 4:06 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 84231923
0 Persons
یوریشیا؛ عالمی تجارت کیلئے ایران کا گیٹ وے

تہران، ارنا- یوریشین یونین پانچ ممالک بشمول آرمینیا، روس، قازقستان، کرقیزستان اور بیلاروس کا ایک معاشی بلاک ہے جس کی تقریبا 183 ملین آبادی کیساتھ ایک ہزار 900 ارب ڈالر جی ڈی پی ہے اور اسے تیل کی پیداور میں پہلی، گیس کی پیداوار میں دوسری اور بجلی کی پیداوار میں چوتھی پوزیشن حاصل ہے اور اس کا شمار دنیا کی سب سے خوشحال سرمایہ کاری منڈیوں میں ہوتا ہے۔

رواں سال کے جنوری میں، ایرانی حکومت نے یوریشیا کیساتھ اس معاشی بلاک میں شامل ہونے کے لئے آزادانہ تجارت کے ضروری اجازت نامے حاصل کرلئے اور اگر مذاکرات نتیجے پر پہنچ جائیں تو اس معاشی بلاک کیساتھ آزادانہ تجارت نومبر 2021 میں شروع ہوگی۔

اب، ایران اور یوریشین یونین کیساتھ آزاد تجارت کے آغاز کیلئے ایک مہینے سے کم باقی ہے اور اس کم وقت میں دونوں فریقین کے درمیان تجارتی لین دین کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کی انتہائی اہمیت حاصل ہے۔

ایران اور یوریشین یونین کے درمیان 800 ارب ڈالر کی مالیت پر مشتمل تجارتی لین دین سے دنیا کے مختلف ممالک بالخصوص ہمسایہ ملکوں سے ایران کے تجارتی تعلقات کا فروغ ہوگا؛ بالخصوص اس وقت جو دشمن عناصر ایران کو دنیا میں الگ کرنے اور دنیا سے اس کے تعلقات کو منقطع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس معاشی یونین کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کا قیام عمل لانے ہی سے بہت سارے ملکوں نے اس میں شمولیت میں دلچسبی کا اظہار کرلیا ہے؛ یوریشین یونین اور دنیا کے دیگر ملکوں سے تجارتی حجم کی شرح تقریبا 850 ارب ڈالر ہے جس میں 331 ارب  ڈالر کا حصہ درآمدات سے تعلق رکھتا ہے۔

اس تجارتی لین دین میں ایران کا 5۔2 ارب ڈالر کا حصہ ہے جس کا ایک ارب 600 ملین ڈالر درامدات اور 823 ملین ڈالر برآمدات سے تعلق رکھتا ہے؛ یوریشین یونین کی ایران میں برآمدات کے 80 فیصد کا حصہ زراعتی مصنوعات بالخصوص اناج سے تعلق رکھتا ہے اور ایران کی یوریشین یونین کو برآمدات کے 68 فیصد کا حصہ زراعتی مصنوعات بالخصوص پھلوں اور میوہ جات سے تعلق رکھتا ہے۔

بلاشبہ، یوریشین معاشی یونین کیساتھ ایران کے تعاون کو فروغ دینے سے ایران کی آئل اور نان آئل برآمدات میں مزید اضافہ ہوگا جس سے کرنسی کی قدر میں اضافہ ہونے سمیت ایران کی معاشی رکاوٹوں پر قابو پانے میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔

یوریشین معاشی یونین کیساتھ ایران کے تعاون کا ایک اور فائدہ خصوصی کسٹم مراعات کا استعمال ہے جو ملک کو یوریشین یونین کے پانچ ممالک میں اپنی برآمدات میں کئی گنا اضافہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اکیسویں صدی ایشیاء کی صدی ہے، اور دنیا کی دولت کی کشش ثقل کا مرکز پاس وال اسٹریٹ اور سلیکن ویلی سے چین اور بھارت کی سمت منتقل ہونے جا رہا ہے؛ یوریشیا ان دونوں ممالک سے قربت کی وجہ سے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha