کسی کو ایران سے جوہری وعدوں سے متعلق پہلا قدم اٹھانے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے: صدر روحانی

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی اور یورپی ملکوں کیجانب سے اپنے وعدوں پر پورا نہ اترنے کو ایرانی جوہری وعدوں میں کمی لانے کی وجوہات قرار دے دیا اور کہا کہ کسی کو ایران سے جوہری وعدوں سے متعلق پہلا قدم اٹھانے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن روحانی" نے آج بروز منگل کو اسلامی انقلاب کی کامیابی کی 42 سالگرہ کی مناسبت سے ایران میں مقیم غیر ملکی سفیروں سے منعقدہ ایک اجلاس کے دوران، خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال کے دوران، کورونا وبا کے پھیلاؤ کی وجہ سے ساری اقوام عالم کو مشکلات کا سامنا ہوا لیکن ایرانی قوم کی صورتحال دوسرے قوموں کے مقابلے میں مزید ابتر تھی کیونکہ وہ آزادانہ طور پر طبی ساز و سامان اور ادویات کی فراہمی کرسکتے تھے لیکن ایران کیخلاف امریکی ظالمانہ پابندیوں کی وجہ سے ہمیں طبی ساز سامان، خوارک اور ادویات کی فراہمی میں دھیر سارے مشکلات کا سامنا ہوا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ امریکی نئی انتظامیہ، کوویڈ-19 کیخلاف لڑنے کیلئے دیگر ملکوں کی مدد کا دعوی کرتی ہے لیکن اس نے اب تک کم سے کم ایرانی قوم کی مدد کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ایرانی قوم اس بار بھی اس آزمائش سے سرخ رو ہوکر نکل گئے اور ہم اندروں ملک ہی میں ضروری طبی ساز و سامان اور صحت کی مصنوعات کو تیار کرتے ہیں۔

صدر روحانی نے ملک میں کوورنا ویکسین کی تیاری کی کوششوں کو سراہتے ہوئے آج بروز منگل کو ملک میں باقاعدہ طور پر کورونا ویکسینیشین کے آغاز پر خوشی کا اظہار کرلیا۔

ایرانی صدر نے 2018ء میں ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی اور یورپی فریقین کیجانب سے اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کے باوجود ایران نے اپنے وعدوں کو پورا کیا اور صبر و مزاحمت کا مظاہرہ کیا تا ہم انہوں نے اس معاہدے کے معاشی ثمرات سے ایران کے فائد اٹھانے کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا اور اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی لہذا اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے جوہری وعدوں میں مرحلہ وار کمی لانے پر اقدام اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو ایران سے جوہری وعدوں سے متعلق پہلا قدم اٹھانے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ ہم نے اپنے وعدوں پر پوری طرح عمل کیا۔

صدر روحانی نے کہا کہ ہم اپنے واضح موقف کو پھر سے دہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر دیگر فریقین اپنے وعدوں پر پوری طرح عمل کریں تو ہم پہلے کی صورتحال میں واپس آئیں گے۔

صدر روحانی نے کہا کہ وہ ملک جس نے ایرن جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کرکے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کیخلاف ورزی سے تین مسلسل سالوں کے دوران، ایرانی قوم کیخلاف ظلم کیا، اس کو جوہری معاہدے میں واپسی سے متعلق پہلا قدم اٹھانا ہوگا۔

ایرانی صدر مملکت نے داعش دہشتگرد گروہ کیخلاف ایران اور عراق کی کوشش پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ کی ہدایت پر جنرل سلیمانی اور ابومہدی المہندس کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی اور عراقی عدلیوں سمیت بین الاقوامی عدالتوں کو اس جرم کیخلاف خاموش نہیں رہنا ہوگا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، علاقے میں قیام امن اور استحکام کیلئے تمام خطی علاقوں سے تعاون اور مذاکرات پر تیار ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha