ایرانی سفارتکار کیخلاف بلیجم کورٹ کا فیصلہ 1961 کے ویانا کنونشن کے منافی ہے

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں سفارتکار "اسد اللہ اسدی" کے مقدمے کی سماعت اور سزا کو غیر قانونی، بین الاقوامی قانون کے منافی اور خاص طور پر سفارتی تعلقات سے متعلق 1961 میں ویانا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔

محکمہ خارجہ کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ اس غیر قانونی اقدام میں شریک ممالک کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بیلجیم میں انٹورپ کی عدالت کے ذریعے ایرانی سفارتکار کیلئے 20 سال قید کی سزا کے فیصلے کی سختی سے مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ جیسا کہ پہلے بھی بارہا اعلان کردیا ہے اسدی کی گرفتاری، عدالتی رویے اور ان کیخلاف حالیہ فیصلہ، یہ سب کے سب غیرقانونی ہیں اور بین الاقوامی حقوق بالخصوص سفارتی تعلقات سے متعلق ویانا کی 1961ء کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کا جمہوریہ اسلامی ایران ہرگز تسلیم نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ بلجیم اور کچھ یورپی ممالک نے یورپی سرزمین پر منافقین کے دہشت گرد گروہ کے معاندانہ ماحول کے زیر اثر اس طرح کے غیر قانونی اور ناجائز اقدام اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لہذا ان کو ایرانی سفارتکار کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی بشمول بلجیم ور جرمنی میں زیر حراست کے دوران، ان کیساتھ غیر انسانی سلوک کا جوابدہ ہونا چاہیے۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، اسدی کے حقوق کی فراہمی اور قانون کیخلاف ورزی کرنے والے ممالک کی جوابدہ ہونے پر سفارتی اور قانونی فریم ورک کے اندر اقدام کرنے کو اپنا حق سمجھتا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha