ایران سے تعلقات میں نیا باب کا آغاز ہوچکا ہے: یوریشین یونین کے سکریٹری جنرل

ماسکو، ارنا- روس کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی اسپیکر "محمد باقر قالیباف" نے یوریشین یونین کے سکریٹری جنرل "میاسنیکوویچ" سے ملاقات کی۔

اس موقع پر قالیباف نے کہا کہ ان کی ہمیشہ یوریشین یونین کے قیام کے خیال سے متعلق مثبت نگاہ تھی اور وہ اس یونین کے قیام اور اس میں ایران کی شمولیت پر خوش ہیں۔

یوریشین یونین کے سکریٹری جنرل نے بھی کہا کہ ایران اور یوریشین یونین کے تعلقات میں ایک نیا باب کا آغاز ہوچکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یوریشن یونین کی تشکیل چھ سالوں سے ہوئی ہے اور یہ دنیا بھر میں مشہور ہے اور اس یونین کے پانج ممالک نے ایران سے تعلقات بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ایران کیساتھ معاشی مسئلہ نہیں ہے؛ ہمیں خاص طور پر مالی تصفیے کے سلسلے میں نئے طریقوں کی ضرورت ہے اور میں ایرانی خریداروں سے تجارت کی سہولت کیلئے ملکی کرنسیوں تک رسائی کی درخواست کرتا ہوں۔

در این اثنا ایرانی اسپیکر نے یوریشین یونین کی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہر اہم مسئلے چیلنج کا شکار ہوسکتا ہے اور اس حساسیت کا تقاضا ہے کہ ہمارے پاس روڈ میپ ہو تا کہ ہم سست روی کا شکار نہ ہوجائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یوریشین یونین سے تعاون بڑھانے پر قوانین میں آسانی لانے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے کورونا وبا اور ایران، روس اور چند دیگر ملکوں کیخلاف پابندیاں لگانے جیسے چیلینجز کا سامنا ہے۔

انہون نے اس بات پر زور دیا کہ نقل و حمل، ادائیگی، سوئفٹ اور بینکنگ وہ مسائل ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ قالیباف نے شمال- جنوب راہداری کے نفاذ کے شرایط کی فراہمی کو اہم قرار دے دیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور یوریشین یونین کے درمیان آزاد تجارت کے عبوری معاہدے کا 27 اکتوبر سے آغاز کیا گیا۔

اس معاہدے کے نفاذ کے ایک سال بعد، ایران اور یوریشن رکن ممالک کیساتھ آزادانہ تجارت کے انتظامات کیے جائیں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha