ایران کیخلاف مغربی پابندیاں ناقابل قبول ہیں: روسی اسٹیٹ ڈوما کے چیئرمین

ماسکو، ارنا- روس کے چیئرمین آف اسٹیٹ ڈوما نے ایران میں نئے ادویات اور ویکسین کی درآمد میں رکاوٹیں حائل کرنے والی مغربی پابندیوں اور اس حوالے سے امریکہ اور یورپی یونین کے موقف کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

ان خیالات کا اظہار "ویچسلاو والودین" نے آج بروز پیر کو روس کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر "محمد باقر قالیباف" سے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے ایران کیخلاف امریکی پابندیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ انسانی حقوق کے دعویدار حکومتیں کورونا بحران کے دوران سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے اس بیماری کے علاج میں مدد کرنے کے بجائے لوگوں کے معیار زندگی کو کم کرتی ہیں۔

روس کے چیئرمین آف اسٹیٹ ڈوما نے علاقائی اور بین الاقوامی چیلنجوں پر قابو پانے کیلئے ایران اور روس کے درمیان تعاون پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ روس، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینے کے لئے نئے فارمیٹس کی تلاش میں ہے؛ کورونا وبائی مرض نے دنیا کو بدل دیا ہے اور ہمیں دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو فروغ دینے کے لئے نئے طریقوں کی تلاش کرنی ہوگی۔

والودین نے کہ اس مذاکرات کا مقصد حقیقی نتائج تک پہنچنے اور ایران اور روس کے درمیان توانائی اور نقل و حمل کے شعبوں میں تعلقات کی توسیع کے ذریعے باہمی معاشی تعلقات کو فروغ دینے کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر سے آج کی ملاقات میں، ہم نے علاقائی تعاون اور سلامتی سے متعلق ایک کانفرنس کے انعقاد پر بات کی؛ ایران، روس، چین، ترکی، افغانستان اور پاکستان اس کانفرنس میں شریک ہیں اور اس کانفرنس کے اجلاس ہر سال ایک ملک میں منعقد ہوتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا پہلا اجلاس اسلام آباد میں انعقاد کیا گیا اور پھر تہران اور ترکی میں دوسرا اور تیسرا اجلاسوں کا انعقاد کیا گیا؛ اب ماسکو کی باری ہے اور ہم نے سال کے آخر میں اس کانفرنس کے انعقاد کے لئے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے۔

روس کے چیئرمین آف اسٹیٹ ڈوما نے روس سے ایران میں کورونا ویکسین کی درآمد پر تبصرہ کرتے ہوئے کورونا وبا پر قابو پانے کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون پر زور دیا۔

اس موقع پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اپنے حالیہ دورے روس کے سب سے اہم مقصد کو قائد اسلامی انقلاب کیجانب سے روسی صدر پیوٹین کے نام پر پیغام کا حوالہ کردینا قرار دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس پیغام میں ایران اور روس کے مابین اسٹریٹجک تعلقات کی مضبوطی اور تسلسل پر زور دیا گیا ہے اور دنیا میں کوئی سیاسی تبدیلی اور یکطرفہ نظریہ اس تعلقات کو متاثر نہیں کرے گا۔

قالیباف نے کہا کہ آج کی میٹنگ میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بہار میں، تہران میں ایرانی اور روسی تاجروں کے مابین اقتصادی اور تجارتی نمائش کے انعقاد بعد، ایران اور روسی پارلیمانوں کا تیسرا مشترکہ ہائی کمیشن منعقد ہوگا اور اس وقت ہم روسی اسپیکر کی میزبانی کریں گے۔

ایرانی اسپیکر نے دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha