7 فروری، 2021 8:52 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 84221458
0 Persons
جوہری معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں کریں گے: ظریف

نیویارک، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پہلے سے مذاکرات کیے گئے جوہری معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے اتوار کے روز سی این این نیوز چینیل کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہزگر جوہری معاہدے سے علیحدہ نہیں ہوگیا بلکہ اپنے بعض جوہری وعدوں میں کمی لائی۔

ظریف نے مزید کہا کہ ٹرمپ، جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوگئے اور اب بائیڈن کو مذاکرات کیے گئے معاہدے میں واپس آنا ہوگا۔

ظریف نے ایرانی بلسٹیک میزائلوں پر مذاکرات سے متعلق امریکی حکام کے حالیہ بیانات کے رد عمل میں کہا کہ واضح بات یہ ہے کہ ہم مذاکرات کیے گئے معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں کریں گے اور اگر ہتیھاروں پر بات کرنا ہو تو تمام پہلووں کا جائزہ اور دیکھنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے گزشتہ سال کے دوران، 70 ارب ڈالر فوجی ساز و سامان کی فراہمی پر خرچ کیا اور متحدہ عرب امارات نے بھی، تقریبا 5۔1 ملین نفر آبادی سے فوجی شعبے میں 22 ارب ڈالر خرچ کیا۔

ظریف نے مزید کہا کہ ایران، ایک ملین سے زیادہ سرکاری فوجیوں کیساتھ، تقریبا 10 بلین سے 11 بلین ڈالر خرچ کرتا ہے؛ کیا وہ اپنے ہتھیاروں کی قیمت کم کرنے کے لئے تیار ہیں؟ کیا امریکہ ہمارے خطے میں اسلحے کی فروخت روکنے کے لئے تیار ہے، جو دنیا کی اسلحے کی برآمد کا ایک چوتھائی حصہ ہے؟

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ کو ایران دفاعی معاملات میں بات نہیں کرنی چاہئے، بلکہ اس کو ان تمام ہتھیاروں سے متعلق میں بات کرنی چاہئے جو وہ ہمارے خطے میں بیچے جاتے ہیں اور یمنی خواتین اور بچوں کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں۔

ظریف نے کہا کہ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کو پوچھنا ہوگا نہ کہ ایران سے اپنے محدود دفاعی اخراجات کو کم کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha