روس میں تیار کردہ کورونا ویکسین کی پہلی کھیپ ایران پہنچ گئی

تہران، ارنا- روس میں تیارکردہ کورونا ویکسین اسپوٹنگ وی کی پہلی کھیپ امام خمینی ائیرپورٹ پر پہنچ گئی۔

تفصیلات کے مطابق، ایرانی محکمہ صحت، کورونا روک تھام کمیٹی اور محکمہ برائے شہری ترقی اور مواصلات کی ہم آہنگی سے، آج بروز جمعرات کو روس میں تیار کردہ کورونا ویکسین کی پہلی کھیپ ایران پہنچ گئی۔

واضح رہے کہ کورونا ویکسین تین پروازوں کے ذریعے روس سے ایران میں منتقل کی جاتی ہیں اور اس کی پہلی پرواز آج ماہان ائیر لائن کے ذریعے کی گئی۔

روس میں تعینات ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ ویکسین کی دوسری کھیپ 8 فروری اور تیسری کھیپ 28 فروری کو ایران پہنچ جائے گی اور اسی طرح ویکسین کی منتقلی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

جلالی نے کہا کہ روسی ویکسین اسپوٹنک وی ایران سمیت 16 سے زیادہ ممالک میں رجسٹرڈ کی گئی ہے اوراسلامی جمہوریہ ایران 16 ویں ملک تھا جس نے گزشتہ ہفتے کے دوران، 91 فیصد سے زیادہ کی کارکردگی کیساتھ اس ویکسین کو رجسٹر کردیا۔

خیال رہے کہ روس کی اسپوٹنک وی ویکسین کو اگست 2020 میں رجسٹر کیا گیا تھا اور محدود استعمال کا آغاز گزشتہ نومبر میں ہوا تھا۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ برس اگست میں کہا تھا کہ روس دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے دو مہینے سے بھی کم عرصے میں انسانوں پر ٹرائل کے بعد کورونا وائرس کی ویکسین کے استعمال کی باقاعدہ منظوری دے دی

انہوں نے کہا تھا کہ اس اقدام کو سائنسی صلاحیت کے ثبوت کے طور پر ماسکو نے پیش کیا۔

روسی صدر نے کہا تھا کہ یہ ویکسین ماسکو کے گمالیا انسٹی ٹیوٹ نے تیار کی اور یہ محفوظ ہے اور یہاں تک کہ اسے ان کی بیٹی کو بھی دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ روس ڈائریکٹ انوسمنٹ فنڈ کے سربراہ کیرل دیمیتروف نے کہا کہ روسی ساختہ ویکسین دنیا کی اولین رجسٹرڈ کورونا ویکسین ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسپوٹنک وی ویکسین ہنگامی استعمال سرٹیفیکیٹ کی حامل ہے اور کورونا کے خلاف 91.4 فیصد موثر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسپوٹنک وی فروری 2021 میں عوامی سطح پر دستیاب ہو گی جبکہ عالمی مارکیٹ میں ویکسین کی خوراک 10 ڈالر سے کم ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ روس کی تیار کردہ اسپوٹنک وی کو دیگر ویکسین کے مقابلے میں ذخیرہ کرنا آسان اور منفی 2 تا 8 درجہ حرارت پر رکھی جا سکتی ہے۔

کیرل دیمیتروف نے دعوی کیا کہ اسپوٹنک وی دیگر ویکسینز کے مقابلے میں سستی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha