ایران-عراق اسٹریٹجک تعلقات خطے میں سلامتی اور استحکام کی ضمانت دیتے ہیں: صدر روحانی

تہران، ارنا- ایرانی صدر مملکت نے تہران- بغداد تعلقات کے فروغ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران-عراق اسٹریٹجک تعلقات خطے میں سلامتی اور استحکام کی ضمانت دیتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن روحانی" نے آج بروز بدھ کو ایران کے دورے پر آئے ہوئے عراقی وزیر خارجہ "فواد حسین" کیساتھ ایک ملاقات کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے ایران اور عراق کے درمیان بے پناہ معاشی صلاحیتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ باہمی معاشی تعلقات کی توسیع سے ہم دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کی سالانہ شرح کو 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایرانی صدر نے باہمی اقتصادی کمیشن کے اجلاسوں کے انعقاد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان اجلاسوں میں طے پانے والے منصوبوں کے نفاذ سے باہمی معاشی تعلقات میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

انہوں نے شلمچہ- بصرہ ریلوے لائن کے نفاذ سے متعلق مسائل کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ منصوبہ مکمل طور پر معاشی، تجارتی ہے اور ایران اور عراق کے مابین نقل و حمل کے راستوں کی تنوع کے سلسلے میں ہے۔

صدر روحانی نے کہا کہ عراق کی آزادی، خودمختاری، قومی سالیمت اور اس کی علاقائی اور بین الاقوامی پوزیشن، اسلامی جمہوریہ ایران کی ترجیحات میں ہیں۔

انہوں نے خطی سلامتی کے تحفظ کے سلسلے میں داعش دہشتگرد کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے ایران اور عراق کے تعاون کو باہمی تعلقات کی تقویت کی ایک اچھی مثال قرار دے دیا۔

صدر روحانی نے عراق میں ہر کسی قسم کی بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عراق سمیت پورے خطے کو نقصان پہنچائے گا۔

انہوں نے جنرل سلیمانی اور ابومہدی المہندس کے قتل کو عراق کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کی واضح مثال قرار دے دیا جو دہشتگردانہ اقدام کی شکل میں داعش کیخلاف لڑنے کے ہیرو کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی صدر نے علاقائی معاملات میں عراق کی موجودگی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ نئی امریکی انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچے گی کہ خطے میں امریکی فوجیوں کی موجودگی تعمیری نہیں ہے اور اس حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے گی۔

اس موقع پر عراقی وزیر خارجہ نے داعش کیخلاف لڑنے میں ایرانی تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تمام شعبوں میں ایران سے تعلقات کے فروغ میں دلچسبی کا اظہار کردیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بغداد، عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا سنجیدگی سے تعاقب کر رہا ہے اور کیے گئے مذاکرات اور اقدامات سے یہ ضرور ہوجائے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha