علاقے میں امریکی فوجیوں کا انخلا، جنرل سلیمانی کے قتل کا بہترین رد عمل ہے: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے عراقی حکومت اور عوام کیجانب سے جنرل سلیمانی اور ابومہدی المہندس کے قتل کے قانونی اور عدالتی تعاقب پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں امریکی فوجیوں کا انخلا، اس دہشتگردی اقدام کیخلاف بہترین رد عمل ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار، "محمد جواد ظریف" نے آج بروز بدھ کو ایران کے دورے پر آئے ہوئے اپنے عراقی ہم منصب "فواد حسین" کیساتھ ایک ملاقات کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر دونوں فریقین نے باہمی تعلقات کی تازہ ترین صورتحال سمیت، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر گفتگو کی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے عراقی حکومت اور عوام کیجانب سے جنرل سلیمانی اور ابومہدی المہندس کے قتل کے قانونی اور عدالتی تعاقب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ اس دہشتگردی اقدام میں ملوثین کی جلد از جلد قانونی سزا دی جاتی ہے۔

انہوں نے علاقے میں امریکی فوجیوں کے انخلا کو اس دہشتگردانہ اقدام کیخلاف بہترین ردعمل قرار دے دیا۔

ظریف نے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاسوں کے انعقاد پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ مختلف شعبوں بشمول صنعتی ٹاون، سرحدی بازاروں، زائرین اور تاجرین کی آمد و رفت، مصنوعات کی نقل و حمل اور بینکی مسائل سے متعلق ایران اور عراق کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کا جلد از جلد نفاذ ہوگا۔

اس موقع پر فواد حسین نے دونوں ملکوں کے درمیان وفدوں کے دوروں کو باہمی تعلقات کی توسیع کیلئے ایران او عراق کا پختہ عزم قرار دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ عراقی وزیر اعظم "مصطفی الکاظمی" نے باہمی تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔

واضح رہے کہ عراقی وزیر خارجہ، ایک وفد کی قیادت میں آج بروز بدھ کو ایران کے دورے پر پہنچ گئے جہاں وہ ایرانی اعلی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha