امریکہ کو جوہری معاہدے میں ایران کے وعدوں کے نفاذ کے جائزہ لینے کا کوئی حق نہیں ہے

نیویارک، ارنا - اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کے ترجمان کہا ہے کہ امریکہ کو جوہری معاہدے میں ایران کے وعدوں کے نفاذ کے جائزہ لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔

یہ بات علیرضا میر یوسفی نے امریکی وزیر خارجہ کے بیانات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوگیا ہے اسی لیے امریکہ کو جوہری معاہدے میں ایرانی وعدوں کے نفاذ کا اندازہ لگانے کی کوئی حق نہیں ہے۔

انہوں نے امریکی وزیر خارجہ کے دعوے، کہ ایران کو پہلے اپنے وعدوں پر پوری طرح عمل کرنا چاہئے اور پھر امریکہ اس بات کا جائزہ کرے گا کہ کیا ان وعدوں پر عمل کیا گیا ہے یا نہیں، کے بعد نے  امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکہ ہے کہ  مشترکہ جامع ایکشن پلان (جے سی پی او اے سے دستبردار ہو گیا ہے، لیکن ایران اب بھی اس معاہدے کا رکن ہے۔

میر یوسفی نے کہا کہ امریکہ کو جوہری معاہدے میں ایرانی وعدوں کے نفاذ کا اندازہ لگانے کی کوئی حق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام قابل گفت و شنید نہیں ہے  کیونکہ صرف ایٹمی پروگرام ہی 2015 کو  ایران اور گروپ 5+1 کے مابین مذاکرات کا موضوع تھا۔

انہوں نے قیدیوں کی رہائی سے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے دونوں فریقوں کے مابین قیدیوں کے تبادلے پر تبادلہ خیال کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURD

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha