ایران کا پابندیوں کی منسوخی کے قانون سے متعلق عالمی جوہری ادارے کو خط

لندن، ارنا- ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے کہا کہ "پابندیوں کے خاتمے اور ایرانی قوم کی مفادات کے تحفظ کے لئے حکمت عملی پر مبنی قانون" کو اپنانے کی بنیادی وجوہات کو ایک بریفنگ رپورٹ میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اور اس کے رکن ممالک کو مطلع کیا گیا اور اس کو آئی اے ای اے کے دستاویز کے طور پر رجسٹر کیا گیا۔

"کاظم غریب آبادی" نے اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس خط کے اہم موضوعات کو پیش کیا گیا جو درج ذیل ہیں؛

** 8 مئی 2018 میں ایران جوہری معاہدے سے امریکی یکطرفہ علیحدگی اور جوہری معاہدے کے مطابق ایران کیخلاف اٹھائے گئے پابندیوں کی از سر نو بحالی، مختلف عنوانات کے تحت ایران کیخلاف نئی پابندیاں عائد کرنے اور دیگر ملکوں اور کمپنیوں کیخلاف دباؤ کے ذریعے ان کو "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی شکست خوردہ پالیسی کی پیروی پرمجبور کرنے کے اقدامات۔

** جوہری معاہدے کے تحت ایرانی مفادات کے تحفظ، امریکی پابندیوں کیخلاف موثر مقابلہ کرنے اور ایران پر عائد پابندیوں کی وجہ سے نقصانات کا ازالہ کرنے کیلئے تین یورپی ممالک اور یورپی یونین نے اپنے جوہری وعدوں کو پورا نہیں کیا اور یہ ایک ایسا وقت ہے جب ایران نے ایک سال سے زیادہ صبر و مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور آئی اے ای اے نے اپنی 15 رپورٹوں میں ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کی۔

** یورپی فریقین کیجانب سے مالی، بینکاری، انشورنس، تجارت، سرمایہ کاری جیسے شعبوں میں اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے جوہری معاہدے کی صورتحال میں مزید ابتری آنے سمیت ایران، جوہری معاہدے کے معاشی ثمرات سے مستفید نہ ہوگیا۔

** جوہری معاہدے کے فریم ورک کے اندر کیے گئے وعدوں میں توازن کی برہمی اور اس معاہدے کی شق نمبر 26 اور 36 کے مطابق، ایران کیجانب سے اپنے وعدوں کی جزوی یا بالکل معطلی کے شرایط کی فراہمی۔

** جوہری معاہدے کے فریم ورک کے اندر ایران کیجانب سے اپنے وعدوں پر عمل پیرا ہونے اور عالمی جوہری ادارے سے تعمیری تعاون کرنے کے باوجود، دیگر فریقین نے اپنے وعدوں کو نبھانے سے متعلق غیر تعمیری موقف اپنایا اور اس کے ساتھ ساتھ جوہری شعبے میں تخریبکارانہ اقدامات، ایرانی اعلی سائنسدان شہید محسن فخری زادہ کا قتل اور ان اقدامات کیخلاف خاموش رہنے سے اس غیر تعمیری پالیسی کی حمایت کی گئی۔

غریب آبادی نے کہا کہ پابندیوں کی منسوخی سے متعلق اسٹرٹیجک اقدامات اٹھانے کے قانون کی منظوری در اصل گزشتہ چند سالوں کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کیجانب سے ایران کیخلاف اٹھائے گئے اقدامات کے رد عمل اور جوہری معاہدے میں توازان لانے اور اسے بچانے کے مقصد سے ہوگئی ہے۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جوہری وعدوں میں کمی لانے کے ایرانی اقدامات، عالمی جوہری ادارے کی زیر نگرانی میں اٹھائے گئے ہیں اور دیگر فریقین کیجانب سے اپنے وعدوں پر عمل کرنے اور ایران کیخلاف پابندیوں کی مکمل منسوخی سے ایران کیجانب سے اپنے وعدوں پر پھر پور طریقے سے عمل کرنے کا امکان ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha