خلیج فارس میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ مغربی ہتھیار ہیں: ایران

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دیگر مغربی ہتھیاروں سمیت فرانسیسی ہتھیار؛ نہ صرف ہزاروں یمنیوں کے قتل عام کا سبب بنی ہیں بلکہ یہ خلیج فارس میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ ہے اور فرانس، برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک سے اسلحے کی برآمدات کا سلسلہ روکنے بغیر، اس حساس خطے میں قیام امن اور استحکام کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار"سعید خطیب زادہ" نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے حالیہ بیانات کے ردعمل میں کیا اورفرانسیسی صدر کو صبر و مزاحمت کا مظاہرہ کرنے اور عجلت سے موقف نہ اپنانے کی دعوت دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران جوہری معاہدہ؛ ایک کثیر الجہتی بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کے ذریعے تصدیق کی گئی ہے اور اس معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کرنا ہرگز ممکن نہیں ہے اور اس معاہدے کے فریقین میں تبدیلی لانے کا امکان ہی نہیں ہے۔

خطیب زادہ نے ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس معاہدے سے علیحدہ ہوگیا اور یورپ بھی اس معاہدے کے تحفظ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا؛ تو اگر جوہری معاہدے کے تحفظ میں کوئی دلچسبی ہے تو اس کا واحد راستہ اس معاہدے میں امریکی واپسی اور ایران کیخلاف تمام پابندیوں کی منسوخی ہے۔

انہوں نے فرانس کیجناب سے خلیج فارس کے ممالک کو بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فروخت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر فرانسیسی حکام کو خلیج فارس میں موجود عرب ملکوں میں اپنی ہتھیاروں کی فروخت کا خدشہ ہے تو انہیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

خطیب زادہ نے اس بات پر زور دیا کہ دیگر مغربی ہتھیاروں سمیت فرانسیسی ہتھیار؛ نہ صرف ہزاروں یمنیوں کے قتل عام کا سبب بنی ہیں بلکہ یہ خلیج فارس میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ ہے اور فرانس، برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک سے اسلحہ کی برآمدات کا سلسلہ روکنے بغیر، اس حساس خطے میں قیام امن اور استحکام کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ فرانسسی صدر نے العربیہ ٹی وی چینل سے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران سے مذاکرات بڑے سنجیدہ ہوں گے اور جوہری معاہدے کے مذاکرات میں میں فرانس کے شراکت دار بشمول سعودی عرب کا حصہ لینے کی ضرورت ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha