نئی امریکی انتظامیہ کے ممبروں کی توقع نہ منطقی ہے اور نہ ہی عملی

تہران، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ کے ممبران کی توقع، کہ ایران جوہرے معاہدے میں واپس آئے، نہ منطقی ہے نہ عملی کیونکہ ہم جوہری معاہدے کا ممبر ہیں اور وہ امریکہ ہے کہ جوہری معاہدے میں واپس آنا ہوگا کیونکہ وہ اس معاہدے سے علیحدہ ہو گیا ہے۔

یہ بات محمد جواد ظریف جو ترکی کے دورے پر ہے، نے جمعہ کے روز اپنے ترک ہم منصب 'مولود چاوش اوغلو' کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کی واپسی کے لیے گذشتہ روز امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدہ ایک معاہدہ تھا جس میں امریکی حکومت، ایران اور پانچ دیگر ممالک شامل تھے اور طویل مذاکرات کے بعد ان ممالک نےاس معاہدے پر تبادلہ خیال کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کی تصدیق کی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی اقدامات لاقانونیت کی واضح مثال ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کے اقدامات کا مطلب یہ نہیں  ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کی تلاش میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کے خلاف امریکی پابندیوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے ایمانداری کے ساتھ ترکی کے خلاف امریکی پابندیوں کی مذمت کی ہے اور ہمارے لیے یہ پابندیاں اہم نہیں ہیں۔

ظریف نے کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ امریکہ پابندیوں کا عادی ہو چکا ہے۔ یہ امریکی پالیسی پوری دنیا اور خود امریکہ کے لئے خطرہ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مشکل حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران اور ترکی کے درمیان تعلقات اچھے تعلقات تھے اور ان تعلقات کو جاری رکھیں گے۔

انہوں نے مختلف علاقائی امور پر ایران اور ترکی کے درمیان تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے  آج ہمارے پاس نہ صرف شام بلکہ قفقاز کے خطے میں بھی تعاون کے خصوصی مواقع موجود ہیں۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ جوہری معاہدے میں واپس آجائے اور تہران کے خلاف اپنی یکطرفہ پابندیوں کا خاتمہ کرے۔

قابل ذکر ہے کہ ظریف نے اس سے پہلے ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ملاقات کی

واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے علاقائی دورے میں باکو اور ماسکو کا دورہ کیا ہے اور وہ آرمینیا کے دورے کے اختتام کے بعد تبلیسی کے دورے پر روانہ ہوگئے۔

اس کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ نے آج بروز جمعہ ترک حکام سے مذاکرات کیلئے انقرہ کا دورہ کیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha