ایرانی سفیر کا ایران کےساتھ عالمی ایٹمی ایجنسی کے تعاون کی سطح میں تبدیلی پر انتباہ

لندن، ارنا –  ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے جوہری معاہدے کی واپسی کے لیے نئی امریکی انتظامیہ کی نئی شرط پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے  ایران اور آئی اے ای اے کے مابین تعاون کی سطح میں تبدیلی پر انتباہ کیا۔

 یہ بات کاظم غریب آبادی نے گزشتہ روز اپنے ٹوئیٹر پیج پر جوہری معاہدے کی واپسی کے لیے نئی امریکی انتظامیہ کی نئی شرط پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ تعاون اور نیک نیتی ایک دو طرفہ سڑک ہے، نہ  ایک طرفہ بولیورڈ۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے نئے قانون نے پابندیوں کے خاتمے کے ذریعے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ مکمل اور نمایاں تعاون کو برقرار رکھنے کا ایک اور موقع فراہم کیا ہےتو امید ہے کہ مواقع ضائع نہیں ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق نئے امریکی وزیر خارجہ نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران جوہری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر مکمل عمل کرے تو  امریکہ بھی یہی کام کرے گا اور اسے طویل  المدتی اور مضبوط معاہدے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

بلنکن نے کہا کہ ''ہم ابھی اس مرحلے میں نہیں پہنچ گئے ہیں اور ایران متعدد شعبوں میں اس معاہدے پر عمل پیرا نہیں ہے۔ انہیں اپنے وعدوں پر واپس جانا چاہیے ، اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ انہوں نے عمل کیا ہے یا نہیں۔"

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha