ایران کا کینیا کو علم پر مبنی کمپنیوں کے تجارب شیئر کرنے پر تیار

تہران، ارنا- نائب ایرانی صدر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے امور نے کینیا کے وزیر برائے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے امور کیساتھ ایک ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک، اپنی کامیاب علم پر مبنی کمپنیوں کے تجارب کو کینیا سے شیئر کرنے پر تیار ہے۔

تفصیلات کے مطابق، "سورنا ستاری" نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرگرم افراد پر مشتمل اعلی سطحی وفد کی قیادت میں نیروبی کا دورہ کیا ہے۔

انہوں نے نیروبی میں کینیا کے وزیر برائے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے امور "جوزف واکابامو چرو" سے ملاقات کی؛ اس اجلاس میں کینیا کے چیمبر آف کامرس کے سربراہ "ریچاد گاتیا" بھی شریک تھے۔

اس موقع پر ستاری نے اسلامی جمہوریہ ایران میں نینو ٹیکنالوجی کی ترقی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو 40 سالوں کے دوران امریکی سخت سے سخت پابندیوں کا شکار ہے تاہم؛ یہ پابندیاں ایرانی پیشرفت کی راہ میں رکاوٹیں حائل نہیں کرسکتیں او ہم نے ان پابندیوں کو مواقع میں بدل کر ملکی ماہرین کی کوششوں سے بہت سارے شعبوں میں خود کفیل ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے خود تمام سازو سامان اور مصنوعات تیار اور ڈیزائن کرنا ہوں گی؛ جس کی وجہ سے ہم خودکفیل ہوگئے اور صنعتوں کو بھی مقامی شکل دی گئی۔

ستاری نے کہا کہ ایرانی علم پر مبنی کمپنیوں کی مصنوعات بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں اور یہ تمام مصنوعات، بہترین معیار اور بین الاقوامی معیاروں کے مطابق تیار کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طاقتور ایرانی کمپنیاں، اس میدان میں اپنے تجربات کو کینیا کی کمپنیوں کے ساتھ شیئر کرسکتی ہیں۔

اس موقع پر کینیا کے وزیر برائے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے امور نے کہا کہ ایران نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں اچھی طرح ترقی کی ہے اور ہم ماحولیات ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے شعبے میں ایران کے تجربات کو استعمال کرنے کے لئے تیار ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha