اسلامی انقلاب کی 42 ویں سالگرہ میں موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی ریلیوں کا انعقاد ہوگا

شہر ری، ارنا- اسلامی ثقافت کی اشاعت کی رابطہ کونسل کے نائب چیئرمین نے کہا ہے کہ رواں سال میں یوم آزادی (10 فروری) کی 42 ویں سالگرہ میں کورونا وبا کے پھیلاؤ کی وجہ سے عوامی ریلیوں کے بجائے موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کی ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "نصر اللہ لطفی" نے بدھ کے روز اسلامی انقلاب کی 42 ویں سالگرہ کو منانے سے متعلق ایک اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال میں کورونا وبا کے پھیلاؤ کی وجہ سے 22 بہمن (10 فروری) میں گزشتہ سالوں کی طرح عوامی ریلیوں کے انعقاد کا امکان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال میں اسلامی انقلاب کی 42 ویں سالگرہ کو اور شاندار منائیں گے۔

لطفی نے کہا کہ 10 فروری کی ریلیوں کی شروعات مساجد سے ہوں گی اور مارچ راستوں کا جلد اعلان کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ساری تیاریاں ہوچکی ہیں تا کہ اسلامی انقلاب کی 42 ویں سالگرہ کو بڑے جوش و خروش سے منایا جائے گا۔

واضح رہے کہ 1979ء کو ايرانی قوم کے اندر يہ شعور بيدار ہوا تو انہوں نے رہبر کبير حضرت امام خمينی کی انوکھی رہبريت ميں اپنے شعور کو پايہ تکميل تک پہنچايا اور اسلامی انقلاب قائم کر کے ايک نيا طرز زندگی اور جينے کا ڈھنگ دنيا والوں کو سکھايا؛ اسلام کو حيات مجدد عطا کی اور عالم اسلام کے لئے الٰہی حکومت کا ايک انمول اور بے نظير عملی نمونہ پيش کيا؛ انقلاب اسلامی ايران اسلامی سوچ اور تفکر کی اٹھان کا نقطہ آغاز تصور کيا جاتا ہے۔

ايران کا اسلامی انقلاب ايک قومی انقلاب تھا اور اسلام کی بنياد پر اور انبياء کے انقلابات جيسا تھا اور خدا کے علاوہ کسی سے وابستہ اور کسی پر متکی نہيں ہے۔ يہی وجہ ہے کہ دوسرے انقلابات سے زيادہ تبليغاتی اور تسليحاتی حملوں کی زد پر رہا ہے، کيونکہ ايران کا اسلامی انقلاب ايک مستقل خصوصيت کا حامل ہے۔

امام خمينی ظالموں اور ستمگروں کے پنچہ ظلم سے عالم اسلام کو آزاد کرانا مسلمانوں کی عزت و شوکت کا پھر سے بول بالا، عالم اسلام کے سياسی، مذہبی، ملی و قومی اختلافات کو ختم کرنا، مسلمانان عالم کو باخبر کرنا اور دينی تفکر تعمير اور نجات اور ايک جملے ميں مسلمانوں کو نجات دلانا چاہتے تھے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha