افغانستان میں قیام امن تمام گروہوں کا کردار ادا کرنے سے ہی ممکن ہے: ایران

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ طالبان کے سیاسی وفد کے حالیہ دورے ایران کا مقصد، امن عمل سے متعلق مذاکرات ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسے ملک جس میں تمام گروہ کردار ادا کرسکیں؛ افغانستان میں قیام امن اور استحکام کا واحد راستہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار "سعید خطیب زادہ" نے آج بروز منگل کو پانچویں تہران گولڈن کلے ورلڈ ایوارڈ کی اختتامی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو کچھ ایرانی عوامی سفارتکاری میں ہورہا ہے وہ سفارتکاری کا ایک نیا مرحلہ ہے اور روایتی ایرانی سفارتکاری اور بین الاقوامی سفارتکاری نئی پیشرفت کا سامنا کررہی ہے۔

خطیب زادہ نے کہا کہ طالبان کا سیاسی وفد "ملابرادر" کی قیادت میں آج بروز منگل کو تہران پہنچ گیا، جہاں ایرانی محکمہ خارجہ کے عہدیداروں نے ان کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کا وفد، ایرانی وزیر خارجہ، ایران کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان کے امور اور دیگر ایرانی عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی خصوصی نمائندے برائے افغانستان کے امور نے گزشتہ دنوں میں اپنے روسی، جرمن، افغان ہم منصبوں سمیت اقوام متحدہ کے نمائندے برائے افغانستان کے امور سے گفتگو کی۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ طالبان کے سیاسی وفد سے افغان امن عمل سے متعلق مذاکرات کیے ہوں گے اور ہم نے افغانستان میں قیام امن پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے اور دہائیوں سے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے متعلق ایران کا موقف، ہرگز امریکی موقف سے وابستہ نہیں ہے اور ٹرمپ کے صدرات کے دوران میں اور اب بھی ایران نے بدستور آزاد موقف اپنایا ہے۔

خطیب زادہ نے افغانستان میں قیام امن کیلئے افغان انٹراڈائیلاگ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے ملک جس میں تمام گروہ کردار ادا کرسکیں؛ افغانستان میں قیام امن اور استحکام کا واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس بھی افغانستان کی سرزمین پر جارحیت کا خاتمہ دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اور اس کو ذمہ دارنہ انخلا کیساتھ افغان عوام پر طویل عرصے سے مسلط کردہ دکھ درد کو خاتمہ دینا ہوگا۔

انہوں نے ایران جوہری معاہدے میں امریکی کی واپسی سے متعلق کہا کہ امریکہ کو قرارداد 2231 اور جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے کے طور پر تمام پابندیوں کو مؤثر طریقے سے ختم کرنا چاہئے تا کہ ہم 20 جنوری 2017 کی صورتحال پر واپس آئیں تو اس وقت اس مہم کے حصول کیلئے مذاکرات کی ضرورت نہیں ہوگی۔

خطیب زادہ نے سعودی عرب سے تعلقات سے متعلق کہا کہ ہم نے سعودی عرب سمیت متعدد ممالک کے ساتھ تعلقات کا ہمیشہ خیر مقدم کیا ہے اور جیسے ہی وہ ان غلط پالیسیوں کو درست کریں اور صحیح راستے پر واپس آجائیں ویسے ہی ہمارے بازو ریاض کے ساتھ مذاکرات کے لئے کھلے ہوں گے۔

انہوں نے یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یمنی قوم انتہائی شدید معاشی دباؤ اور محاصرے میں ہے اور ریاض کے علاوہ، اس قوم کے خلاف کچھ دوسرے ممالک کی جارحانہ کاروائیاں جاری ہیں؛ اور یہ حکومتیں، جیسے ہی یہ غلط راستہ درست کریں گی، دیکھیں گی کہ خطے کی اقوام ان سے تعلقات برقرار کرنے کیلئے تیار ہوں گی۔

خطیب زادہ نے کہا کہ  ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی، بعض خدشات کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha