ایران روس تعلقات کی عمر امریکی تاریخ سے زیادہ لمبی ہے: ظریف

ماسکو، ارنا- ماسکو کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے روسی ہم منصب کیساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران اور روس کے تعلقات دوستانہ ہیں اور ان تعلقات کی عمر امریکی تاریخ سے زیادہ لمبی ہے۔

"محمد جواد ظریف" نے منگل کے روز لاوروف کیساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ واشنگٹن کے برعکس، ایران، اپنے جوہری معاہدوں پر پابند رہا لیکن واشنگٹن انتظامیہ نے حتی اوباما کے برسر کار ہونے کے موقع پر بھی اپنے وعدوں کو نہیں نبھایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی نئی انتظامیہ نے اب تک صرف وعدہ دیا ہے اور کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا ہے۔

ظریف نے کہا کہ قائد اسلامی انقلاب کے مطابق جب تک ایران کیخلاف لگائی گئی پابندیوں کی منسوخی نہ ہوجائے تب جوہری معاہدے میں واپسی کا امکان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ایران میں روس میں تیار کردہ ویکسین اسپوٹنک کو رجسٹر کیا گیا۔

ظریف نے اس امید کا اظہار کردیا کہ قریب مستقبل میں اسی ویکسین کی خریداری اور مشترکہ تیاری کے امکان کی فراہمی ہوجائے گی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیانات میں یمن میں قتل، خونریزی اور جنگ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کاراباخ مسئلے سے متعلق کہا کہ ایران کیلئے سیکورٹی حالات کے پیش نظر کاراباخ مسئلے کا حل انتہایی ضروری تھا۔

ظریف نے سعوی عرب سے متعلق کہا کہ میں اپنے سعودی ہم منصبوں کی طرح سلوک نہیں کرتا ہوں بلکہ میرا کہنا یہ ہے کہ ہمیں علاقے کے مفادات میں کام کرنا ہوگا۔

اس موقع پر لاوروف نے ایران اور روس کے تعلقات کو دوستانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک، تمام شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ظریف سے اپنی ملاقات میں ایرانی میں واقع بوشہر پاور پلانٹ میں نئے یونٹس کی تعمیر پر بات چیت کی گئی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha