جوہری معاہدے میں کوئی آسان واپسی کا امکان نہیں ہے: امریکی سنئیر تجزیہ کار

نیویارک، ارنا - کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے سینئر تجزیہ کار نے جوہری معاہدے سے متعلق نئی ​​امریکی انتظامیہ کے طرز عمل کو کسی بھی کارروائی سے پہلے اتحادیوں سے مشاورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے میں شاید کوئی آسان واپسی کا امکان نہ ہو۔

ان خیالات کا اظہار "مارک پری" نے منگل کے روز ارنا نمائندے کیساتھ خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے بائیڈن انتظامیہ کی خصوصیت سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ بائیڈن کی حکومت کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ حقیقت میں ان کی حکومت کے بہت سارے ممبر اعتدال پسند ہونے کے بجائے ترقی پسند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بائیڈن سب سے زیادہ ترقی پسند صدر ہوسکتے ہیں جو ہم نے فرینکلن روزویلٹ کے بعد اب تک دیکھا ہے۔

امریکی تجزیہ کار نے کہا کہ بائیڈن خاص طور پر خارجہ پالیسی کے امور پر قائد بنیں گے؛ ان کے تقرر کردہ زیادہ تر افراد اپنے کیریئر کی ترقی کیلئے ان پر وابستہ اور وفادار ہیں۔

اس موقع پر ارنا نمائندے نے یہ سوال اٹھایا کہ بائیڈن اندروں ملک اور بیرون ملک اتحاد کیسے پیدا کرسکتا ہے؟ جب کہ پچھلے چار سالوں میں دنیا نے امریکہ کی موثر موجودگی کے بغیر دنیا کو سیکھا اور تجربہ کیا؟

پری نے جواب میں کہا کہ بائیڈن انتظامیہ اوباما کی تیسری انتظامیہ نہیں ہے؛ دونوں کے مابین کافی حد تک تضاد ہیں۔ یہ خاص طور پر بیرون ملک آباد بستیوں کے لئے درست ہے۔

 انہوں نے کہا کہ اوباما خارجہ پالیسی کے امور کے بارے میں ماہرین کے خیالات کا اندازہ لگانا چاہتے تھے اور اپنے تجربے کی کمی کی وجہ سے خارجہ پالیسی کے امور کو زیادہ تر یہ ماہرین سنبھالتے تھے؛ لیکن بائیڈن کے پاس خارجہ پالیسی میں وسیع تجربہ ہے۔

انہوں نے چین اور روس سے متعلق بائیڈن انتظامیہ کی پالیسی سے متعلق کہا کہ بائیڈن اسٹریٹجک صبر پر یقین رکھتے ہیں؛ یہ ایک حقیقت ہے جو ان کی کابینہ کے انتخاب میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔

پری نے ایران جوہری معاہدے سے متعلق کہا کہ میرا خیال ہے باییڈن انتظامیہ کا ایران جوہری معاہدے میں واپسی اور اسی حوالے سے ایران سے مذاکرات کیلئے وسیع نقطہ نظر ہے۔

اس موقع پر ارنا نمائندے نے کہا کہ اگر بائیڈن اور ان کی ٹیم کا خیال ہے کہ ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی غلط تھی تو وہ کیوں ایران کیخلاف لگائی گئی پابندیوں کی منسوخی سے 2017 کی صورتحال تک واپس نہیں آئیں گے؟

امریکی سیاسی تجزیہ کار نے کہا کہ جوہری معاہدے سے متعلق نئی ​​امریکی انتظامیہ کے طرز عمل کو کسی بھی کارروائی سے پہلے اتحادیوں سے مشاورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے میں شاید کوئی آسان واپسی کا امکان نہ ہو۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 7 =