ناگورا-کاراباخ کا مسئلہ خطے میں امن اور دوستی کا ایک موقع ہے: ظریف

ماسکو، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ناگورا-کاراباخ بحران روس کی ثالثی سے تہران اور ماسکو کی مشترکہ تشویش کی حیثیت سے بحران حل ہوگیا ہے اور اب وہ خطے میں امن اور دوستی کا ایک موقع بن گیا ہے۔

یہ بات محمد جواد ظریف جنہوں نےروس کے دورے پر ہے، منگل کے روز اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ساتھ ایک ملاقات میں کہی۔

لاوروف نے اس ملاقات کے آغاز میں تہران اور ماسکو کے مابین اچھے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج کی میٹنگ میں ہم ناگورا-کاراباخ خطے ، جوہری معاہدے ، شام ، افغانستان اور خلیج فارس کے خطے کی صورتحال اور دیگر امور پر بات چیت کریں گے۔

لاوروف نے کہا کہ تہران اور ماسکو جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ کے خواہاں ہیں۔

 روسی وزیر خارجہ نے بتایا کہ نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے ایران جوہری معاہدے میں واپسی کے لئے مذاکرات کی دلچسپی کا اظہار کیا ہے لیکن واشنگٹن ابھی تک تہران کے ساتھ مذاکرات کا خواہاں نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے محمد جواد ظریف آج کی صبح روسی حکام کیساتھ باہمی اور علاقائی مسائل پر بات چیت کیلیے ماسکو پہنچ گئے۔

ظریف نے ناگورنو-کاراباخ میں امن قائم کرنے کی وجہ سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ  "ناگورا-کاراباخ کا بحران تہران اور ماسکو کا مشترکہ تشویش تھا جو روس کی ثالثی سے حل ہوگیا اور اب یہ خطے میں امن اور دوستی کا ایک موقع بن گیا ہے۔

ماسکو پہنچنے پر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہاکہ ٹرمپ کی رخصتی کے ساتھ بین الاقوامی صورتحال ایک خاص صورتحال ہے جس کے لئے ہمیں اور روس کو اس سلسلے میں اپنے مواقف کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha