پاکستانی جوہری ماہر کا ایران مخالف پابندیوں کے خاتمے پر زور

اسلام آباد، ارنا – خاتون پاکستانی جوہری ماہر نے ایران جوہری معاہدے میں واپسی کے لئے بائیڈن حکومت کی جانب سے کسی بھی اقدام کو ایران مخالف پابندیوں کے خاتمہ اور غیر قانونی نقصانات کے ازالہ کرنے کے ساتھ ہونا چاہئے۔

یہ بات محترمہ خاتون 'رضوانہ عباسی' آج بروز منگل ارنا کے نمائندے کے ساتھ خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ نئی امریکی انتظامیہ نے آئندہ چار سالوں کے لئے اپنی خارجہ پالیسی کے وژن کا خاکہ پیش کیا ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ سابق امریکی انتظامیہ کے ذریعے منسوخ ہونے والے معاہدوں بشمول جوہری معاہدے( جامع مشترکہ ایکشن پلان) کی بحالی اور شمولیت جو بائیڈن کے ایجنڈے میں شامل ہوئے۔

پاکستانی خاتون نے کہا کہ جب تک بائیڈن ایران مخالف پابندیوں کو نہ اٹھائے۔ ایران کے ساتھ ازسر نو مذاکرات تنازعات کا بنیادی حل نہیں ہوسکتا ہے۔

پاکستانی پروفیسر نے اسلامی جمہوریہ ایران ، جوہری معاہدے کے مذاکرات کے ایک حصے کے طور پر ، ٹرمپ کی علیحدگی سے پیدا ہونے والے نقصانات کی تلافی کی کوشش کر رہا ہے، اور نئی امریکی انتظامیہ سے بھی اس کا مطالبہ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ سابق امریکی انتظامیہ کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری ، ثانوی پابندیوں کے نفاذ اور اقتصادی دباؤ کا ایران پر کوئی اثر نہیں ہوا لیکن امریکہ کی اس ایک طرفہ اقدام کے منفی نتائج نے خطے میں تہران کو پریشان کردیا ہے۔

عباسی نے کہا کہ جوہری معاہدے میں ٹرمپ کی وعدہ خلافی نے نہ صرف ایران کی قومی سلامتی کو کمزور نہیں کیا بلکہ ایرانی عوام کی یکجہتی اور اتحاد میں بھی اضافہ کیا کیونکہ ایرانی قوم اپنی اندرونی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha