ایران میں گیس کنڈینسیٹ ٹینکوں کو مقامی بنانے سے 400 ملین یورو کی بچت

تہران، ارنا- ایک ایرانی علم پر مبنی کمپنی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ملک میں گیس کنڈینسیٹ ٹینکوں کو مقامی بنانے میں کامیابی کیساتھ اب جنوبی پارس گیس فیلڈ کے 8 فیزوں میں 400 ملین یورو کی بچت ہوگئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار "غلامرضا زینل پور" نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں کے پہلے دور میں، کمپنی نے کم درجہ حرارت والے ٹینکوں کی تعمیر کی ذمہ داری سنبھالی اور ان اقدامات کے ساتھ ، غیر ملکیوں کی غیر موجودگی میں نہ صرف کوئی خلل پیدا ہوا بلکہ معاشی بچت سے خصوصی اہلکاروں کو کی تربیت بھی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پارس گیس فیلڈ کے 8 فیزوں میں موجود سب ایل۔ پی۔ جی ٹیکنوں کا اس کمپنی میں تیار کیا گیا ہے اور کئی فیزوں میں بھی ان کا نفاذ کیا گیا ہے۔

زینل پور نے کہا کہ اس کمپنی میں ٹینک بنانے کی لاگت غیر ملکی کمپنیوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کمپنی میں ٹینک بنانے کی لاگت غیر ملکی کمپنیوں کے مقابلے میں تقریبا 40 فیصد کم ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی بازاروں میں سرگرمی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے حال ہی میں عمان میں ہنڈئ کے ساتھ ٹینڈر میں حصہ لیا تھا اور ہمیں منظوری دے دی گئی تھی، اگر پابندیوں کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے تو ہم تکنیکی اور انجینئرنگ خدمات برآمد کریں گے۔

زینل پور نے کہا کہ جنوبی پارس گیس فیلڈ کے ہر ایک فیز میں ٹیکنوں کی تعمیر میں زرمبادلہ کے ذخائر میں 50 ملین یورو کی بچت ہوئی ہے اور چونکہ اس اقدام کا 8 فیزوں میں کیا گیا ہے تو مجموعی طور پر 400 ملین یورو کی بچت ہوگئی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha