25 جنوری، 2021 3:34 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 84198565
0 Persons
امریکہ بین الاقوامی دہشتگردی میں سرفہرست ہے: نوم چومسکی

تہران، ارنا- معروف امریکی تھیوریسٹ نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے حامیوں کی طرح، روشن خیال امریکی لبرل بھی خیالی دنیا میں رہتے ہیں اور وہ بین الاقوامی دہشت گردی میں امریکہ کو قائد کی حیثیت سے تسلیم کرنے سے قاصر ہیں۔

ان خیالات کا اظہار، نوم چومسکی نے پیر کے روز راشا ٹوڈے نیوز چینل کیساتھ انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے بہت سے حامیوں کی طرح، روشن خیال امریکی لبرل، امریکی حکومت کی "بین الاقوامی دہشت گردی" کو ایک محفوظ طاقت کے طور پر قرار دیتے ہوئے خیالی دنیا میں گھوم رہے ہیں۔

چامسکی نے کہا کہ جس طرح ٹرمپ کے حامی، انتخابات میں اس کی شکست کو قبول نہیں کرسکتے، اسی طرح امریکی لبرل دانشور بھی یہ قبول نہیں کرسکتے ہیں کہ ان کا ملک دہشت گردی کا ایک قائد ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے ایک آزاد قوم کی حیثیت سے اپنی تاریخ میں تقریبا، ہمیشہ کسی اور ملک کیخلاف جنگ لڑنے کا آغاز کیا ہے اور اس کی انسداد دہشت گردی کی پالیسی؛ جس کو امریکہ کے 40 ویں صدر رونالڈ ریگن کی خارجہ پالیسی میں مشاہدہ کیا گیا در حقیقت "وسطی امریکہ اور جنوبی افریقہ میں امریکی انسداد دہشت گردی کی مزاحمت" سے خلفشار تھا۔

چومسکی نے کہا کہ مثال کے طور پر "نیلسن منڈیلا" جو جنوبی افریقہ کے صدر اور نسل پرستی کے خلاف جنگ کے رہنما تھے، کو 2008 تک اور اپارتھائیڈ حکومت کا تختہ الٹنے کے بہت عرصے بعد ہی، امریکہ نے دہشت گرد سمجھا تھا اور اسی دوران، بین الاقوامی عدالت انصاف نے عالمی قوانین کو چھپا کر نکاراگوا کیخلاف امریکی خفیہ جنگ کو قانونی حیثیت دے دی۔

چومسکی کے مطابق، ریگن انتظامیہ نے جو کچھ کیا وہ امریکی معیار کے مطابق، دہشت گردی کا انتہا تھا؛ لیکن آخر میں، جب بین الاقوامی عدالت انصاف نے امریکہ کیخلاف فیصلہ سنایا تو، نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ "ہم عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دے سکتے ہیں کیونکہ یہ ایک معاندانہ انجمن ہے۔" یہ معاندانہ انجمن کیوں ہے؟ کیونکہ امریکہ کیخلاف فیصلہ سنایا؟

چومسکی نے کیوبا کو امریکی پالیسیوں کا شکار ایک اور ملک قرار دے دیا جس نے کئی دہائیوں کی پابندیوں کو برداشت کیا ہے اور اپنی حکومت کو کمزور کرنے اور شورش کو ہوا دینے کے لئے جاری امریکی مہم کا مقابلہ کیا ہے۔

امریکی تجزیہ کار نے تصدیق کی کہ امریکہ میں ان اقدامات کو "کیوبا کے رہنما" فیڈل کاسترو سے جان چھڑانے کے لئے سی آئی اے کے احمقانہ منصوبے سمجھے جاتے ہیں؛ آخر کار، کیوبا کے خلاف واشنگٹن کی دہشت گردی کی جنگ کے نتائج دنیا کی تباہی اور لاطینی امریکی میزائل بحران کا باعث بنے۔

لہذا؛ امریکی پالیسیوں کو دیکھنے میں لبرل دانشوروں کی سمجھ کا فقدان کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تاریخ کی کتابوں میں دفن ہو یا غیر ملکی سرزمینوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس تک محدود ہو۔ مثال کے طور پر، ٹرمپ کے حامی "پاگل ٹھگ" جنہوں نے 6 جنوری کو واشنگٹن میں ہنگامہ آرائی کی؛ وہ کہیں سے بھی نہیں نکل پائے اور ان کی شکست امریکی جمہوریت کے وقار کی علامت نہیں تھی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 4 =