استاد "خسروشاہی" عالم اسلام کے اتحاد کے علمبرداروں میں سے ایک تھے: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے مرحوم  استاد "سید ہادی خسروشاہی" کو عالم اسلام میں اتحاد لانے کے علمبرداروں میں سے ایک قرار دے دیا جن کا ایرانی محکمہ خارجہ سمیت اسلامی تحریکوں کے سلسلے میں ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے آج بروز اتوار کو سائنسی اور ثقاتی شعبے کے اہم عہدیدار مرحوم سید ہادی خشروشاہی کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے استاد خسروشاہی کے انتقال پر ان کے لواحقین اور اہل خانوں سے تعزیت کا اظہار کرلیا۔

ظریف نے کورونا وبا کے پھیلاؤ کی وجہ سے استاد خسروشاہی کی جنازے کی تقریب میں عوام کی شرکت کی فراہمی نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرلیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے ویٹیکن اور قاہرہ میں بڑی ذمہ داری اور انقلابی وژن کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے دیا اور ان کا ایرانی محکمہ خارجہ سمیت اسلامی تحریکوں کے سلسلے میں ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔

ظریف نے کہا کہ استاد خسروشاہی، عالم اسلام میں اتحاد لانے کے علمبرداروں میں سے ایک تھے اور "سید جمال الدین اسد آبادی" سے خراج عقیدت پیش کرتے تھے اور انھیں اسلام کو متحد کرنے اور عالم اسلام کو بیدار کرنے کی کوشش کی مثال کے طور پر پہچانتے تھے۔

انہوں نے ایران میں اسلامی تحریکوں کا تعارف اور دنیائے اسلام و نیز ویٹیکن میں عیسائی برادری کے درمیان، اسلامی ایران کے تعارف میں خسروشاہی کے اہم کردار پر زور دیا۔

ظریف نے کہا کہ اسلامی انقلاب کے بعد استاد خسروشاہی کے تصانیف میں عرب دنیا اور اسلامی دنیا میں اسلامی تحریکوں کی نشاندہی کرنا اور انہیں ملک کے اندر متعارف کروانا اور ان تحریکوں اور اخوان المسلمون جیسی اسلامی تحریکوں کے بارے میں ایک واضح اور روشن خیال نظریہ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ استاد خسروشاہی؛ ان سفارتکاروں میں سے ایک تھے جو اسلامی معاشروں کے مختلف حصوں، مذہبی حلقوں، سیاسی گروہوں، انقلابیوں اور حتی ایران مخالف لوگوں کے ساتھ بات چیت کرسکتے تھے؛ اور ان گروہوں نے استاد خسرو شاہی کو ایک تعلیم یافتہ شخصیت اور ایک انقلابی کے طور پر پہچان لیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha