23 جنوری، 2021 4:04 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 84196095
0 Persons
ایران میں سالانہ 135 ہزار افراد کینسر کا شکار ہوجاتے ہیں

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ صحت میں ڈائریکٹر مینجنگ برائے غیر وبائی امراض کے امور نے کہا ہے کہ ملک میں سالانہ 135 ہزار افراد کینسر کا شکار ہوجاتے ہیں جن میں سے 52 فیصد کا حصہ مردوں اور 48 فیصد کا حصہ خواتین سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "افشین استوار" نے ہفتے کے روز ملک میں کینسر کا شکار افراد اور اس متعلق اموات کی شرح پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں اس بیماری سے متاثر افراد کی اموات عالمی اوسط سے کم ہیں؛ ملک میں فی 100 ہزار آبادی میں کینسر کے واقعات مردوں میں 155 فی صد ہزار اور خواتین میں 128 فی صد ہزار ہیں۔

استوار نے مزید کہا کہ 2018 کے اعداد وشمار کے مطابق، ایران میں سالانہ 135 ہزار افراد کینسر کا شکار ہوجاتے ہیں جن میں سے 52 فیصد کا حصہ مردوں اور 48 فیصد کا حصہ خواتین سے تعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل کینسر کیئر پروگرام (آبادی پر مبنی کینسر رجسٹریشن) کے مطابق؛ اس بیماری کے واقعات فی 100 ہزار آبادی میں 168.89 ہیں؛ یعنی مردوں کے لئے 180 فی 100 ہزار اور خواتین کے لئے 160 فی 100 ہزار ہے۔.

استوار نے مزید کہا کہ چھاتی، پروسٹیٹ، بڑی آنت ، جلد اور پیٹ کے کینسر؛ ملک میں عام پنچ قسم کے کینسر ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اموات کا 16 فیصد کینسر سے متعلق ہے جو قلبی امراض کے بعد ملک میں اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے۔

ایرانی محکمہ صحت کے اس عہدیدار نے کہا کہ ملک میں لگ بھگ 151 ہزار اموات کیسنر کی وجہ سے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کینسر ایران اور دنیا کا سب سے مہنگا مرض ہے؛ بدقسمتی سے دو تہائی افراد جو کسی بھی وجہ سے اس بیماری سے متاثر ہوئے ہیں انھیں بہت زیادہ اخراجات اٹھانا پڑتے ہیں (وہ گھریلو آمدنی کا 30 فیصد سے زیادہ علاج پر خرچ کرتے ہیں)۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 1 =