ایران- پاکستان- ترکی کی ریلوے نیٹ ورک کے سائے میں علاقائی تجارت کا فروغ

تہران، ارنا – ایران ، پاکستان اور ترکی کی ریلوے لائن کا فروغ نہ صرف خطی ممالک میں تجارتی تبادلے کے فروغ کے ساتھ ساتھ ایشیاء سے یوروپ تک سامان اور مسافروں کے تبادلے کا باعث ہوگا۔

ایران ، ترکی اور پاکستان کے حکام نے گزشتہ ماہ استنبول - تہران - اسلام آباد کی ریلوے لائن کی بحالی پر اتفاق کیا۔ یہ  ریلوے لائن کا آغاز 2009 میں ایشیاء میں ایک سیاسی اور معاشی ادارہ 'اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او)' کے فریم ورک کے تحت کیا گیا تھا۔ جس منصوبے کا مقصد تینوں ممالک کے مابین ایک بین الاقوامی ریلوے کو بحال کرنا اور تینوں ممالک کے مابین روابط اور تجارتی روابط کو مستحکم کرنا تھا۔

اب تک یہ ریلوے لائن باقاعدگی سے کام نہیں کر سکی ہے لہذا ان ممالک کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ عملی طور پر اس ریلوے کا کام جلد شروع ہوجائے گا۔

گذشتہ سال اس کوریڈور کے دوبارہ کھلنے کی افواہیں پھیلائی گئی لیکن یہ منصوبہ اب بھی ایک نظریہ ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ کرونا اور ترکی اور ایران کے مابین ریلوے تعلقات کی ترقی نے چین کو اپنے مفادات کے حصول کے لئے استنبول-تہران - اسلام آباد (ITI) کے ریلوے میں تعاون کرنے پر زیادہ راضی کردیا ہے۔

چین کا خیال ہے کہ اس راستے کے ذریعے سے وہ کم سے کم وقت میں سامان اور خدمات منتقل کرسکتا ہے۔

 ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 6 =