امریکہ ایران کی تیل کی برآمد کو صفر تک کم کرنے میں ناکام رہا: وزیر پیٹرولیم

تہران، ارنا – ایرانی وزیر پیٹرولیم نے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ کی خواہش ہے کہ ایران کی تیل کی برآمدات صفر ہو مگر تیل کی برآمدات کبھی بھی صفر نہیں ہوسکتی ہیں۔

یہ بات "بیژن نامدار زنگنہ" نے جمعہ کے روز 25ویں عالمی تیل، گيس، تطہیر اور پیٹروکیمیکل کی نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ اس نمائش کا نعرہ قومی تیل اور ایرانی سامان اور خدمات ہے لہذا ہمیں سب کو ملک کے حصول اور ترقی کے لئے پوری طاقت کے ساتھ جدوجہد کرنی ہوگی اور اس طرح اس کامیابی پر قابو پانا ہوگا کہ ایرانی عوام دشمنوں کو نقصان پہنچانے اور اس کو خراب کرنے کے لئے کیا کررہے ہیں۔
زنگنہ نے تیل کے شعبوں میں کام کرنے والی ابھرتی ہوئی کمپنیوں کے لئے اپنی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے کے طور پر ہم نے اپنے کاموں کو بہترین طریقے سے انجام دینے کے لئے ان کی مدد اور ترقی کرنے کے لئے500  ملین فراہم کیے۔
انہوں نے تیل کی صنعت کی طرف مالیاتی ذرائع کو راغب کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن ایرانی تیل کی برآمدات کو روکنے والا ہے لیکن وہ ایسا کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ تیل کی مصنوعات کی برآمدات میں ایسی تعداد ریکارڈ کی گئی جو ایرانی آئل انڈسٹری کی زندگی کے دوران حاصل نہیں ہوسکیں اور اس کے لئے پر عزم اور پابندی عائد کی جانی چاہئے اور تاکہ دشمن اس ذریعہ سے ایرانی عوام پر دباؤ نہ ڈال سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب تک 26 شعبوں میں سرگرمیوں کے لئے 3 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط ہوچکے ہیں اور یہاں کی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والے سامان کا 70 فیصد مقامی کمپنیوں سے حاصل کیا گیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران میں "قومی تیل، ایرانی مصنوعات اور خدمات" کے نعرے کے ساتھ 25ویں عالمی تیل، گیس، تطہیر اور پیٹرو کیمیکلز کی نمائش کا افتتاح کردیا گیا جس میں 550 قومی کمپنی شریک ہیں۔
ایرانی وزیر تیل "بیژن نامدار زنگنہ"، ایرانی مجلس کے نمائندے اور تیل کی صنعت کے ماہرین نے اس نمائش کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے صرف ماہرین اس نمائش کو دیکھ سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، 25ویں عالمی تیل، گیس، تطہیر اور پیٹروکیمیکلز نمائش 22 سے 25 جنوری تک ایرانی دارالحکومت تہران میں جاری ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha