جوہری معاہدے پر مکمل عملدرآمد پابنديوں کے خاتمے پر منحصر ہے: ظریف

لندن، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے جوہری معاہدے کے تحفظ اور مکمل عملدرآمد کے لئے آئرلینڈ کے کردار ادا کرنے کے دلچسبی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ماضی کی طرح اس معاہدے پر عملدرآمد کرنے کے لئے تیار ہے اگر پابندیاں ختم کردی گئیں اور امریکی وعدے پورے ہوجائیں۔

یہ بات "محمد جواد ظریف" نے بدھ کے روز اپنے آئرلینڈی ہم منصب "سایمون کاووئی" کے ساتھ ایک آنلائن کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ابتدا سے جوہری معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کے مطابق عمل کیا ہے اور اس معاہدے سے امریکی علیحدگی اور یورپ کی کمزوری کے بعد اس معاہدے کی شق نمبر 36 اپنے وعدوں میں کمی لایا ہے۔
ظریف نے سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکن کی حیثیت سے آئر لینڈ کی رکنیت پر مبارکباد دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر اور کثیرالجہتی کے دائرہ کار میں اس کونسل کے کاموں پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی اقدامات کو ہراساں کرنے اور غیر قانونی پابندیوں کے نفاذ کے ساتھ کیا گیا ہے ، خاص طور پر حالیہ برسوں میں جو چارٹر کے مقاصد کے منافی ہیں اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں جسی وجہ سے کثیر الجہتی پن پر نقصاں پہنچ کیا گیا ہے لہذا توقع ہے کہ تمام ممالک خصوصا سلامتی کونسل کے ممبر بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے تعمیری کوششیں کریں گے۔
ظریف نے دونوں ممالک کے درمیان تخفیف اسلحہ، یمن اور شام کے عوام کو انسانی امداد جیسے بہت سے اہم مشترکہ علاقائی امور پر تبصرہ کرتے ہوئے  تہران میں آئرش سفارت خانے کے دوبارہ کھولنے کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی صلاحیت بہت بڑی ہے اور حالیہ پیشرفت سے ان صلاحیتوں میں مزید ترقی کی ضرورت ہے۔
آئرش وزیر خارجہ نے جوہری معاہدے کو ایک اہم عالمی سفارتکاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس معاہدے کے تحفظ کے لئے تعمیری کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے ٹرمپ کے زیادہ سے زیادہ دباو کی پالیسی کو غیرتعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے پالیسیاں سفارتکاری پر نقصاں پہنچ کیا گيا ہے۔
کاوونی نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین کے شراکت داروں کے ساتھ اجلاسوں میں جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیا گيا ہے۔
انہوں نے علاقے میں ایران کے اہم کردار کا حوالہ دیتے ہوئے لبنان، یمن، شام، افغانستان اور عراق کے مسائل پر سیاسی تعاون بڑھانے کا مطالبہ کیا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha