اقوام متحدہ میں ایرانی نمائندگی کا امریکہ میں ڈاکٹر افراسیابی کی گرفتاری پر رد عمل

نیویارک، ارنا - اقوام متحدہ کے لیے ایرانی مشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ میں بین الاقوامی تعلقات کے ماہر اور ایرانی یونیورسٹی کے پروفیسر کی گرفتاری ایران مخالف ٹرمپ انتظامیہ کے تعصب اور امتیازی سلوک کا نتیجہ ہے۔

یہ بات علی رضا میریوسفی نے منگل کے روز امریکی وزارت انصاف کی جانب سے ایرانی پروفیسر 'ڈاکٹر کاوہ افراسیابی ' کی گرفتاری پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سنا ہے کہ ٹرمپ کی متعصبانہ  اور ایران مخالف انتظامیہ نے  اپنی حکومت کے آخری گھنٹوں میں بھی جھوٹے الزامات کی بنیاد پر ڈاکٹر افراسیابی کو گرفتار کیا ہے۔

میریوسفی نے کہا کہ ڈاکٹر افراسیابی نے بطور نمائندہ کام نہیں کیا اور صرف یونیورسٹی کے پروفیسر اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہر کی حیثیت سے کام کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افراسیابی نے ایرانی وفد کو بین الاقوامی امور کے شعبے میں مشاورت کی ہے اور ابتدا ہی سے   ان کا کام اور ہم  کے ساتھ ان کا رابطہ مکمل طور پر شفاف تھا

قابل ذکر ہے کہ امریکی محکمہ انصاف نے منگل کے روز ایرانی پروفیسر، سیاسی ماہر اور تجزیہ کاوہ افراسیابی غیر قانونی سرگرمیوں کے الزام پر گرفتار کیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha