سعودی عرب کے پاس خطے میں سب زیادہ عدم استحکام پھیلانے والی ہتیھار ہیں

تہران، ارنا- جینوا میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پڑوسی ملکوں کیخلاف اتحاد کی تشکیل اور جنگ لڑنے کی سرغنہ ہے جس کے پاس خطے میں سب سے زیادہ عدم استحکام پھیلانے والی ہتھیار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، "اسماعیل بقائی ہامانہ" نے علاقے میں سعودی عرب کے تباہ کن اقدامات اور پڑوسی ملکوں کیخلاف جنگ لڑنے، سویلین کے قتل اور ان ممالک کے بنیادی ڈھانچوں کی تباہی، اور علاقے میں عدم استحکام پھیلانے کے سیاہ کارنامے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنیوا میں تخفیف اسلحے کی کانفرنس کے مبصر ممبر کی حیثیت سے اس ملک کی موجودگی تباہ کن ہے اور اس ادارے میں اس کا داخلہ اس کے مقاصد اور مشنوں کے منافی بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو تخفیف اسلحے کی کانفرنس میں داخلے سے روکنے کے سلسلے میں ایران کے اس اقدام کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو جوہری تخفیف اسلحے کے میدان میں واحد بین الاقوامی کثیرالجہتی ادارے کے طور پر اسلحے سے پاک کانفرنس کی پوزیشن کے تحفظ پر خدشات ہے۔

بقائی ہامانہ نے کہا کہ سعودی عرب، پڑوسی ملکوں کیخلاف اتحاد کی تشکیل اور جنگ لڑنے کی سرغنہ ہے جس کے پاس خطے میں سب سے زیادہ عدم استحکام پھیلانے والی ہتھیار ہیں اور اس نے اپنے مشکوک جوہری پروگرام کو بغیر کسی بین الاقوامی تنظیموں کی نگرانی سے جاری رکھا ہے لہذا اس میں تخفیف اسحلے کے مذاکرات می شمولیت کی صلاحیت نہیں ہے۔

ایرانی مندوب نے کہا کہ اس طرح کے اجلاسوں میں سعودی عرب کی شمولیت کا مقصد صرف عوامی ذہن کو مسخ کرنے اور یمن میں اپنی غلطیوں اور جرائم پر پردہ پوشی کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتفاق رائے کی حکمرانی پر مبنی اس ادارے میں ہونے والے فیصلے کے مطابق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، ہمارے ملک کی مخالفت کے ساتھ، 2021 کے لئے تخفیف اسلحے کی کانفرنس میں مبصر رکن کا عہدہ حاصل نہیں کرسکیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha