امریکی پابندیاں اور جاپانی احتیاط؛ تہران- ٹوکیو تعلقات کے فروغ میں رکاوٹیں

تہران، ارنا- جاپان میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ ایران کے نقطہ نظر سے تہران اور توکیو کے درمیان مختلف شعبوں بشمول تیل کی تجارت، اقتصادی، ثقافتی اور جامعات کے درمیان تعاون میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تاہم افسوس کی بات ہے کہ امریکی غیر قانونی پابندیاں اور جاپان کے احتیاط نے تہران اور ٹوکیو تعلقات کے فروغ کی راہ میں رکاوٹیں حائل کی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "مرتضی رحمانی موحد" نے آج بروز منگل کو جاپانی اخبار "ماینیچی" سے انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جاپان ایران تعلقات، مشرقی ایشیاء اور مغربی ایشیاء کے درمیان قدیم ترین تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے 90 سال سے زیادہ عرصے سے سیاسی تعلقات رہے ہیں۔

موحد نے کہا کہ اب بھی، اگر جاپانی فریق مؤثر حکمت عملی دکھائے اور مفید اقدامات اٹھائے تو دونوں ممالک کے مابین تعلقات مزید ترقی کریں گے۔

انہوں نے جوہری معاہدے میں امریکی واپسی سے متعلق کہا کہ جوہری معاہدہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین برسوں سے جاری بات چیت کا نتیجہ ہے؛ اس معاہدے کے وقت بائیڈن نائب صدر تھے اور اس معاہدے کی تفصیلات سے واقف ہیں؛ وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ جوہری معاہدے کا احترام کرتے ہیں اور اس میں واپس آئیں گے اب غور سے دیکھنا ہوگا کہ بادئیدن اپنے بیانات پر عمل کریں گے کہ نہیں؟

انہوں نے امریکی معاشی پابندیوں سے متعلق کہا کہ ایران میں بھی، دوسرے ممالک کی طرح، کورونا وائرس پھیل گیا ہے؛ بحیرہ روم سے لے کر وسطی ایشیاء تک کے علاقوں میں ایران کا جدید ترین اور طاقتور صحت اور طبی نظام موجود ہے تاہم  ایران کو امریکی معاشی پابندیوں کا شکار ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ امریکہ نے پہلے کہا تھا کہ "انسانہ دوستانہ مصنوعات بشمول خوارک اور ادویات " کو پابندیوں سے استثنی دی ہے لیکن حقیقت میں انسان دوستانہ مصنوعات کی تجارت اور فراہمی ممکن نہیں ہے، لہذا امریکی دعوی جھوٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی جمہوریت ایک بے معنی نعرہ ہے؛ یہاں تک کہ وہ اپنے معاشی مفادات کے لئے انسانی حقوق کی قربانی دیتا ہے۔

ایرانی سفیر نے صیہونی ریاست اور عرب ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کو "فلسطینی عوام کی آزادی کی خواہش" کیخلاف عظیم غداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ ممالک کا خیال ہے کہ صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات استوار کرنے سے ان کے ملک میں قیام سلامتی ہوگا حالانکہ یہ محض ایک وہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے سے قبل ایران نے 20 فیصد یورنیم کی افزودگی کی تھی اور یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے؛ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ذریعہ ایران کے تمام جوہری پروگرام کی نگرانی پہلے ہی کی جا چکی ہے، اور ایجنسی نے اپنی رپورٹوں میں بار بار اس بات کی تصدیق کی ہے ایران نے آئی اے ای اے بورڈ کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پوری طرح تعمیل کی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha