ٹرمپ کے اقدامات سے ایرانی ارادے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران، کشیدگی اور جنگ کا خواہاں نہیں ہے اور ٹرمپ کے حالیہ اقدامات سے ہماری قوم کے ارادے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے پیر کے روز کمیشن برائے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے دوران، شہید جنرل سلیمانی کے قتل میں ملوثین کا تعاقب اور سزا دینے کے معاملے پر کیے گئے اقدامات پر پارلیمنٹ کے ممبران کو وضاحتیں دی گئیں۔

ظریف نے وائٹ ہاوس میں ٹرمپ کے آخری ایام کے موقع پر ایران کیخلاف کیے گئے اقدامات کے رد عمل میں کہا کہ ایران، کشیدگی اور جنگ کا خواہاں نہیں ہے اور ٹرمپ کے حالیہ اقدامات سے ہماری قوم کے ارادے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ایران پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے پچھلی جارحیتوں کی تاریخ پر نظر ڈالنی چاہئے؛ لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے دور ختم ہونے کے اخری دنوں میں ہم اس طرح کی جارحیتوں کا بخوبی جواب دینے کے قابل ہیں۔

ظریف نے غیر ملکی ممالک میں قائم ایرانی سفارتخانوں میں تجارتی قونصلر کی تعیناتی سے متعلق کہا کہ  اپنے علاقائی اور روس کے دورے پر اس موضوع کا جائرہ لیا جائے گا تا ہم ان تجارتی قونصلروں کی تعیناتی ایرانی وزارت برائے تجارت، صنعت اور کان کنی کے ذمہ پر ہے اور ہم اس حوالے سے ان کا تعاون کریں گے۔

انہوں نے کاراباخ کے مسئلے پر آذربائیجان کی قومی سالیمت کی ایرانی حمایت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم رہائیشی علاقوں بالخصوص تاریخی ورثے میں شامل گنجہ کے شہر پر حملہ کرنے کے مخالف ہیں۔

انہوں نے پابندیوں کی منسوخی سے متعلق اسٹریٹجک اقدامات اٹھانے سے متعلق کہا کہ محکمہ خارجہ اس حوالے سے قانون کے مطابق کام کرے گی اوریہ جمہوریت کے عین کے مطابق ہے اور حکومت کا یقین ہے کہ پارلیمنٹ میں منظور کیے گئے قانون کا نفاذ کرنا ہوگا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha