انسٹیکس؛ جوہری معاہدے کے خلاف مغربی کی سیاسی اشارتی حرکت

لندن، ارنا - یورپین جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی علیحدگی کے بعد جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے کے لئے متعدد سیاسی اشارے کیے تھے اور انسٹیکس کہانی کا آغاز ان میں سے ایک تھا ، لیکن جوہری معاہدے میں ان کی وعدہ خلافی بھی انسٹیکس تک پھیل گئی اور اب اس سے بھی بدتر یہ ہے کہ وہ اس میکانزم کی نا اہلی کے مجرم کی تلاش میں ہیں۔

انسٹیکس (INSTEX) (Instrument in Support of Trade Exchanges) یا تجارتی تبادلے کا نظام، ایک خاص مالیاتی آلہ ہے جو جوہری معاہدے سے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی کے نو ماہ بعد (فروری 2019) فرانس ، جرمنی اور برطانیہ کے ذریعے ایران کے ساتھ غیر ڈالر کی تجارت کو آسان بنانے کے لئے تشکیل دیا گیا۔

پچھلے دو سالوں میں زمان گزرنے کے ساتھ اس میکانزم کی کوتاہیاں تیزی سے عیاں ہو رہی ہیں اور یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ یورپی کمپنیاں ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیوں کے خوف سے اس طریقہ کار کے استعمال سے گریزاں ہیں۔ یورپی حکومتیں کا موقف امریکی پابندیوں کے سلسلے میں واضح نہیں ہے۔

جرمن ایرانی چیمبر آف کامرس کے سابق سربراہ مائیکل توکاس کا خیال ہے کہ انسٹیکس کا میکانزم ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات میں موثر کردار ادا نہیں کیا ہے اور نہ ہی کرے گا۔

انہوں نے ارنا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کو بتایا کہ "مستقبل کے بارے میں مثبت نقطہ نظر اور ایران کے خلاف پابندیوں کو ختم کرنے کے ساتھ اس میکانزم کو بند کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ پیسے کا ضیاع ہے۔ ''

جبکہ اب ایسا لگتا ہے کہ انسٹیکس کا سسٹم اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے جرمنی کی وزارت خارجہ کے عہدیدار  ' آنتیه لندرت زه' نے انسٹیکس کی ناکامی کا من گھرٹ الزام اسلامی جمہوریہ ایران پر لگایا ہے۔

دریں اثنا ایران کی مرکزی بینک نے اپنے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ پر ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ میکانزم جوہری معاہدے کو بچانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا ، لیکن کامیاب نہیں ہوگیا کیونکہ یوروپی ممالک میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ اپنی قومی اور آزاد معاشی طاقت کو استعمال کرسکیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha