ایران جوہری ادارے کا تین یورپی ملکوں کے حالیہ بیان پر رد عمل

تہران، ارنا- ایرانی جوہری ادارے نے تین یورپی ملکوں کے حالیہ بیان کے رد عمل میں کہا ہے کہ "ایرانی قوم کے مفادات کے تحفظ اور پابندیوں کی منسوخی سے متعلق اسٹریٹجک اقدام اٹھانے" کے قانون میں درج شدہ میٹل یورنیم پروڈکشن پلانٹ کا معاملہ، تہران کے ریسرچ ری ایکٹر میں جدید ایندھن (سلیکن) کی تیاری سے بالکل مختلف معاملہ ہے۔

ایران جوہری ادارے نے ایک جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے آرٹیکل 4 کے تحت میٹل یورینیم پلانٹ کے لئے ڈیزائن سوالنامے کے بارے میں ابھی تک آئی اے ای اے کو معلومات فراہم نہیں کی ہیں؛ یقینا، ضروری انتظامات کرنے اور قانون میں مخصوص وقت اور آخری تاریخ پر عمل کرنے کے مطابق، یہ اقدام ہوجائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایندھن کا جدید ترین پروڈکٹ پروگرام (سلیکن)، جیسا کہ ایجنسی کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے، گزشتہ دوسال کے دوران، پہلی بار ایجنسی کو پیش کیا گیا تھا اور اسی عرصے کے دوران، اضافی معلومات اور آخر کار ڈیزائن سوالنامہ (ڈی آئی کیو) کی معلومات کئی مراحل میں عالمی جوہری ادارے کو ارسال کی گئی تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 1980 کے ابتدائی دہائی میں اس وقت عالمی جوہری ادارے کو پیش کی گئی ایک رپورٹ کے دوران، پرامن اور روایتی استعمال کے لئے دھاتی یورینیم کی تیاری کے بارے میں تحقیق اور توسیع کی گئی تھی اور اس میں بہت کم کامیابی ملی تھی۔

ایرانی جوہری ادارے نے مزید کہا ہے کہ جدید ترین ایندھن کی تیاری کے عمل میں (سلیکن)، دھاتی یورینیم، ایک انٹرمیڈیٹ پروڈکٹ ہے جو اس مرحلے میں نان اسٹاپ پروڈکشن کے عمل میں، جدید ایندھن (سلیکن) کو فوری طور پر تیار کیا جاتا ہے۔

بیان میں اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اپنی رپورٹوں میں غیر ضروری تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے رونما ہونے والی غلط فہمیوں سے نمٹنے کی کوشش کرے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 9 =