میزائلوں کی رہنمائی اور کنٹرول میں نئی ​​ٹیکنالوجی کا استعمال آئی آر جی سی مشق کی خصوصیات ہیں

تہران، ارنا- پاسداران اسلامی انقلاب کے سربراہ نے "پیامبر اعظم (ص)" نامی جنگی مشق میں میزائلوں اور ڈرونز کی مشترکہ آپریشن کو ایرانی قوم کے پختہ عزم کی علامت قرار دے دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میزائل اور ڈرونز گائیڈنس اور کمانڈ اینڈ کنٹرول میں نئی ​​ٹیکنالوجیز کی کامیاب جانچ، اس مشق کی ایک خصوصیات ہیں۔

ان خیالات کا اظہار بریگیڈئیر جنرل "حسین سلامی" نے آج بروز جمعہ کو 15 ویں پیامبر اعظم (ص) جنگی مشق کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مشق کے پہلے مرحلے میں بیلسٹک میزائل داغنے اور اہداف کو تباہ کرنے کیساتھ جدید ترین رہنمائی اور کنٹرول ٹیکنالوجیوں اور مصنوعی ذہانت سے لیس بڑی تعداد میں جارحانہ جنگی ڈرونز کے استعمال سے ایران کی دفاعی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میزائل اور یو اے وی رہنمائی اور کنٹرول سسٹم میں نئی ​​ٹیکنالوجیز کی کامیاب جانچ اور مشترکہ اسٹریٹجک آپریشن سین کا کنٹرول، اس مشق کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

واضح رہے کہ،15 ویں پیامبر اعظم (ص) جنگی مشق کا آج بروز جمعہ کو "یا فاطمہ الزہرا (س) کے کوڈ سے زمین سے بیلسٹک میزائلوں کی بڑے پیمانے پر فائرنگ اور ایران کے مرکزی صحرا کے عمومی علاقے میں جارحانہ بمبار ڈرون کے ذریعے آپریشنوں کے نفاذ کیساتھ انعقاد کیا گیا

منعقدہ اس مشق میں پاسداران اسلامی انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل حسین سلامی، پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے سربراہ بریگیڈئیر جنرل "امیر حاجی زادہ" اور دیگر اعلی فوجی حکام نے حصہ لیا ہے۔

اس مشق میں سطح سے سطح کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونوں کی ایک نئی نسل کا استعمال کرتے ہوئے فرضی دشمن کے ٹھکانے اور تمام فرضی اہداف کی تباہی پر مشترکہ حملہ کیا گیا۔ 

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 15 =